
نئی دہلی، 27 جولائی(ہ س)۔ قابل تجدید توانائی کمپنی جونیپر گرین انرجی کے پبلک ایشو (آئی پی او) کے لیے پرائس بینڈ اور لاٹ سائز کا اعلان کردیاگیا ہے۔ اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 214 روپے سے 225 روپے فی حصص کا پرائس بینڈ طے کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 66 حصص ہے۔ اس ایشو کے ذریعے کمپنی مارکیٹ سے 1,800 کروڑ روپے اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔جونیپر گرین انرجی کا ایشو 30 جولائی کو سبسکرپشن کے لیے کھل جائے گا۔ سرمایہ کار 3 اگست تک اس پر بولی لگا سکیں گے۔ حصص 4 اگست کو بند ہونے کے بعد الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 5 اگست کو الاٹ کیے گئے حصص ڈیمیٹ اکاونٹ میں جمع کیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 6 اگست کو بی ایس ای اور این ایس ای پر درج ہونے کا امکان ہے۔اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کار کم از کم 1 لاٹ یعنی 66 حصص کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,850 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کار زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس کے لیے بولی لگا سکتے ہیں جس میں 1,93,050 روپے کی سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ 1,800 کروڑ روپے کے کل آٹھ کروڑ نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔ایشو کا زیادہ سے زیادہ 50 فیصدحصہ اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے کم از کم 35 فیصدحصہ اور غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے کم از کم 15 فیصدحصہ مختص کیا گیاہے۔ آئی سی آئی سی آئی سیکیورٹیز لمیٹڈ کو اس ایشو کا بک رننگ لیڈ مینیجر مقرر کیا گیا ہے۔ کے فن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو رجسٹرار بنایا گیا ہے۔جونیپر گرین انرجی کی مالی صحت کے حوالے سے، جیسا کہ پراسپیکٹس میں دعوی کیا گیا ہے، معمولی اتار چڑھاو کے باوجود اس کی مالی صحت مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023-2024میں کمپنی کا خالص منافع 40.06 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں کم ہو کر 36.48 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی دوران، گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں، کمپنی نے 40.46 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی کی وصولیابی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال2023تا2024 میں 424.45 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 569.78 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں، کمپنی کو 804.93 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔
اس دوران کمپنی کا قرض بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 2,671.70 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال2024تا2025 میں بڑھ کر 5,502.53 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران گزشتہ مالی سال 2025تا2026کے اختتام تک کمپنی کا قرضہ 12,920.54 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 108.21 کروڑ روپے کی سطح پرتھی، جو 2024تا2025میں بڑھ کر 116.29 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کی مجموعی مالیت 113.89 کروڑ روپے کی سطح پرتھی۔ کمپنی کے رزرواور سرپلس کی بات کریں تو اس عرصے میں کمپنی اس محاذ پر بھی فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہی۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 1,555.14 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 2,870.91 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس 2,934.89 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے تھے۔اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023سے2024 میں 370.84 کروڑ روپے رہی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 485.69 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 692.18 کروڑ روپے کی سطح پرآ گیاتھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی