
یروشلم، 23 جولائی (ہ س)۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو یہ مغربی ایشیا میں امن کے قیام کی طرف ایک تاریخی قدم ثابت ہوگا۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں اس امکان کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری تعاون کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ابراہیمی معاہدے میں سعودی عرب کی شرکت ضروری ہوگی۔ تاہم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں جوہری معاہدے کا براہ راست ذکر نہیں کیا گیا۔
ابراہیمی معاہدے کا آغاز 2020 میں ہوا تھا، جس کے تحت متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو معمول پر لایا تھا۔ اس کے بعد دیگر اقوام نے بھی اس اقدام میں حصہ لیا۔ ان معاہدوں کو علاقائی تعاون اور تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کا طویل عرصے سے موقف رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے پر صرف اسی صورت میں غور کرے گا جب ایک قابل اعتماد اور ٹھوس سیاسی عمل کو یقینی بنایا جائے جس سے فلسطینی ریاست کے قیام کو عمل میں لایا جائے۔ اس معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان واضح اختلافات برقرار ہیں۔
سعودی عرب نے ابھی تک ان تازہ پیش رفتوں اور نیتن یاہو کے بیان کے حوالے سے کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی