
اقوام متحدہ، 23 جولائی (ہ س) ۔ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ سندھ ندی پانی کے معاہدے کی معطلی کو منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک ریاستی پالیسی کے طور پر ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کی پرورش کرکے سندھ طاس معاہدے کی بنیادی روح کو ہی ختم کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی)میں منعقدہ ”قدرتی وسائل کی حکمرانی: امن، سلامتی اور خوشحالی کی بنیاد“کے موضوع پر اعلیٰ سطحی کھلی بحث کے دوران ہندوستان کے مستقل نمائندے ہریش پروتنینی نے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہوئے سندھ آبی معاہدے پر ملک کے سخت موقف کا اعادہ کیا۔
ہریش پاروتنینی نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہوئے ”جھوٹی کہانی“ پیش کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ جو ملک سرحد پار دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپناتا ہے ،اس کے ساتھ باہمی اعتماد اور خیر سگالی پر مبنی تعاون ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کی مسلسل حمایت سے الگکرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
سفیر پروتنینی نے کہا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ اور ناقابل تنسیخ حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔ یہ ایک آئینی اور قانونی سچائی ہے جسے پاکستان جان بوجھ کر نظر انداز کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق واحد زیر التوا مسئلہ ہندوستانی سرزمین پر پاکستان کا غیر قانونی قبضہ ہے اور یہ کہ ہندوستان پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے پاکستان اپنے گھر کو ٹھیک کرکے اپنی اور اپنے عوام کی زیادہ فلاح کرے گا۔
ہندوستان نے 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے، جس میں 26افراد ہلاک ہوئے تھے، کے بعد 23 اپریل کوکابینہکمیٹی برائے سیکورٹی (سی سی ایس) کی میٹنگ میں سندھ آبی معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہندوستان نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان قابل اعتبار اور مستقل طور پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت بند نہیں کرتا۔
نئی دہلی میں حکومت ہندنے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اپنیپرانی شکل میں دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے میں باقی رہنا ہندوستان کے مفاد میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”ہندوستان نے نقصانات کی قیمت پر بھی خیر سگالی اور دوستی کے جذبے سے اس معاہدے پر دستخط کیے، لیکن پاکستان نے چار دہائیوں سے ریاستی پالیسی کے طور پر سرحد پار دہشت گردی کو ڈھٹائی سے فروغ دے کر معاہدے میں درج جذبہ خیر سگالی کی خلاف ورزی کی ہے۔ معاہدے کی بنیادیں تباہ کر دی گئی ہیں۔“
ہندوستان کا موقف ہے کہ جب کہ اس نے جنگوں کے درمیان بھی چھ دہائیوں سے زیادہ وقت تک اس معاہدے کا احترام کیا ہے،وہیں پاکستان کی مسلسل سرحد پار دہشت گردی (بشمول پارلیمنٹ، ممبئی، ا±ڑی، پلوامہ اور پہلگام پر حملے) نے معاہدے کے لیے درکار باہمی اعتماد اور باہمی تعاون کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
ہندوستان کا ماننا ہے کہ جن حالات کے تحت 1960 میں معاہدہ ہوا تھا، وہ اب مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ موجودہ بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنا بذات خود خلاف ورزی ہے۔ مستقبل میں اگر کوئی بھی معاہدہ یا مذاکرات کئے جاتے ہیں، تو وہ آج کے حقائق جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئر ری ٹریٹ، ہائیڈرولوجی کی تبدیلی، بڑھتی ہوئی مانگ، نئی ٹیکنالوجی اور سیکورٹی خدشات کی عکاسی کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد