
نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔ مغربی گھاٹ کے حیاتیاتی تنوع سے مالا مال جنگلات میں سائنس دانوں نے لائیکن بنانے والی پھپھوندی ایلّوگرافا کی پانچ نئی انواع دریافت کی ہیں۔ یہ دریافت ماحولیاتی تحفظ اور جنگلاتی ماحولیاتی نظام کے مطالعے کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ لائیکن فضائی آلودگی اور رہائش گاہ میں ہونے والی تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس ہوتے ہیں اور جنگلات کی صحت کے اہم اشاریے سمجھے جاتے ہیں۔
محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے خود مختار ادارے میکس آغاڑکر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، پونے کے سائنس دانوں نے روایتی درجہ بندی کے طریقوں کے ساتھ جدید ڈی این اے تجزیاتی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے یہ مطالعہ کیا۔ محکمہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ تحقیق کے دوران ایلّوگرافا کیرالی نسس، اے نائکے، اے پیرا کونسانگ وینیا، اے پرسسٹین اسپرسّا اور اے سیمی کاربونیسٹا نامی پانچ نئی انواع کی شناخت کی گئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مغربی گھاٹ کے حیاتیاتی تنوع اور مختلف انواع کے ارتقائی عمل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں کی نشاندہی، طویل مدتی ماحولیاتی نگرانی اور جنگلات کے تحفظ سے متعلق پالیسیوں کو سائنسی بنیاد فراہم کرنے میں بھی یہ مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ لائیکن دو جانداروں—فنگس (پھپھوندی) اور کائی—کا ایک باہمی تعاون پر مبنی حیاتیاتی امتزاج ہے۔ فنگس کائی کو پانی اور رہنے کی جگہ فراہم کرتا ہے، جبکہ کائی ضیائی تالیف (فوٹو سنتھیسز) کے ذریعے غذا تیار کرتی ہے۔ یہ عموماً درختوں کی چھال، چٹانوں اور مٹی پر پائے جاتے ہیں۔ لائیکن انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ یہ آلودہ علاقوں، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار زیادہ ہو، نشوونما نہیں پاتے، اسی لیے انہیں فضائی آلودگی کا قدرتی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد