
نئی دہلی، 21 جولائی (ہ س)۔ ملک کی سب سے بڑی اثاثہ جات کی انتظامی کمپنی (اے ایم سی ) ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ کے شیئروں نے آج اسٹاک مارکیٹ میں مضبوطی کے ساتھ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 574 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج، بی ایس ای پر اس کی لسٹنگ 6.27 فیصد کے پریمیم کے ساتھ610 روپے کی سطح پر اور این ایس ای پر 6.85 فیصد کے پریمیم کے ساتھ 613.30 روپے کی سطح پر ہوئی۔
اس کی لسٹنگ کے بعد، خریداری کی حمایتسے یہ اسٹاک بڑھ کر 624.90 روپے تک پہنچ گئے۔ اس سے پہلے کہ فروخت کا دباؤ بننے کی وجہ سے598.20 روپے کی سطح تک بھی آ گیا۔ پورے دن کی تجارت کے بعد، ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ کا حصص بی ایس ای پر 609.90 روپے اور این ایس ای پر609.75 روپے کی سطح پر بند ہوا۔ اس طرح، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے ٹریڈنگ کے پہلے دن 35 روپے فی حصصیعنی تقریباً 6.25 فیصد کا اضافہ ہو گیا۔
کمپنی کا 9,812.91 روپے کروڑ کا آئی پی او 14 اور 16 جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست رسپانس ملا، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 41.73 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میں سے، اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مختص حصے کو 140.11 بار سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مختص حصہ 22.51 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 3.76 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملازمین کے لیے مختص حصے کو 4.65گنا سبسکرائب کیا گیا اور شیئر ہولڈرز کے لیے مختص حصے کو 9.52گنا سبسکرائب کیا گیا۔
اس آئی پی او کے تحت کوئی نیا حصص جاری نہیں کیا گیا تھا، بلکہ آفر فار سیل ونڈو کے تحت ایک روپہے کی فیس ویلیو والے 17,09,56,631 حصص فروخت کیے گئے ہیں۔ اس میں سے 12,83,34,397 حصص ایس بی آئی نے اور 7,53,74,842 حصص ایمونڈی انڈیا ہولڈنگز کے ذریعہ فروخت کیے گئے۔ چونکہ یہ ایشو پوری طرح آفر فار سیل کا تھا، اس لیے اس آئی پی او سے حاصل ہونے والی آمدنی ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ کو نہیں گئی، بلکہ فروخت کرنے والے پروموٹرز، ایس بی آئی اور ایمونڈی انڈیا کو گئی۔
ایس بی آئی فنڈز مینجمنٹ کی مالی حالت کی بارے میں بات کریں، کیپٹل مارکیٹس ریگولیٹر سیبی کے پاس دائر کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر پی ایچ ) میں کئے گئے دعو ے کے مطابق اس کی مالی حالت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 24-2023 میں، کمپنی کو 2,072.79 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا، جو اگلے مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 2,540.15 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کا خالص منافع 3,067.38 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں، اسے3,426.08 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل ہوئی تھیجو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 4,236.15 کروڑ روپے اور گزشتہ مالی برس 26-2025 میں 4,976.11 کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔ اس دوران کمپنی کے ذخائر اور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں، یہ 182.02 کروڑ رپے کی سطح پر تھا، جو 25-2024 میں 255.12 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح 25-2024 میں کمپنی کے ذخائر اور سرپلس روپے 326.73 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہا۔ مالی سال 24-2023 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 6,747.45 کروڑ روپے تھی، جو 25-2024 میں بڑھ کر 8,297.53 کروڑ روپے ہو گئی۔ تاہم، مالی سال 2025-26 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت گھٹ کر 5,963.06 کروڑ روپے ہوگئی۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے 24-2023 میں 2,718.82 کروڑ روپے تھی، جو 25-2024 میں بڑھ کر 3,412.94 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح، پچھلے مالی سال، 26-2025 میں، کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 4,058.44 کروڑ روپے ہو گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد