
نئی دہلی ، 21 جولائی (ہ س)۔ ایئرواسپیس، ڈیفنس، ریلوے اور سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے لئے اعلیٰ درستگی والی مشینی پرزے اور ذیلی اسمبلیاں تیارکرنے والی پریسیزن انجینئرنگ کمپنی مل ورکس ٹیکنالوجیز کے شیئرز نے آج شیئر مارکیٹ نے زبردست مضبوطی کے ساتھ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو زبردست فائدہ پہنچایا اور ان پیسے کو تقریباً دوگنا کردیا۔آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئرز 331روپے کی قیمت پر جاری کی گئی تھی۔ آج بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ 90فیصد پریمیم کے ساتھ628.90روپے کی سطح پر ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد ہوئی خریداری کی وجہ سے کمپنی کے شیئر تھوڑی دیر میں ہی چھلانگ لگا کر 660.30روپے کے اپر سرکٹ کی سطح پر پہنچ گئے۔ اس طرح پہلے دن کے ٹریڈنگ کے کاروبار میں ہی کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروںکو فی شیئر 329.30 روپے یعنی 99.49فیصد کا فائدہ ہوگیا۔
مل ورکس ٹیکنالوجیز کا160.34کروڑروپے کا آئی پی او14سے16جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لئے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے بمپر رسپانس ملا تھا، جس کی وجہ یہ اوور آل219.54گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بیز)کے لیے مختص حصہ کو 194.05 بار سبسکرائب ہوا تھا۔ اسی طرح غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں(این آئی آئی) کے لیے مختص حصہ کو 260.37 بار سبسکرائب کیا گیا۔ مزید برآں، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ کو 216.60 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی او کے تحت 48.44 لاکھ نئے شیئرز جاری کیے گئے جن کی قیمت 10 روپے ہے۔ کمپنی نئی مشینری خریدنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال کرے گی۔
مل ورکس ٹیکنالوجیز کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پروسپیکٹس(ڈی آر ایچ پی) میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔مالی سال2023-24میں کمپنی کو1.95کروڑ روپے کا خالص منافع ہواتھا، جو اگلے مالی سال2024-25میں بڑھ کر 5.25کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ پچھلے مالی سال 2025-26میں کمپنی کو37.06کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں، اس نے 9.40کروڑ کی کل آمدنی حاصل کی ، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر22.42 کروڑ ہو گئی۔ اسی طرح، پچھلے مالی سال 2025-26 کے اختتام تک، کمپنی نے153.40 کروڑ کی آمدنی حاصل کی تھی۔
اس دوران کمپنی کے قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر، کمپنی پر قرض کا بوجھ4.57کروڑ تھا ، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 9.63 کروڑ ہو گیا ۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، اس مالی سال کے اختتام تک کمپنی کے قرض کا بوجھ17.02 کروڑ تک پہنچ گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan