
نئی دہلی ، 21 جولائی (ہ س)۔ فیبرک کی ڈائینگ اور پروسیسنگ کا کام کرنے والی الپائن ٹیکس ورلڈ کے شیئرز نے آج اسٹاک مارکیٹ نے فلیٹ انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کردیا۔آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئر105 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای اور این ایس ای پر اس کی لسٹنگ بغیر کسی اتار چڑھاؤ کے105روپے کی سطح پر ہی ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد ہوئی فروختگی کی وجہ سے کمپنی کے شیئرز کچھ دیر میں ہی گرکر99.75روپے کی نچلی سطح پر پہنچ گئے۔اس طرح پہلے دن کے کاروبار میں ہی کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی شیئر5.25روپے یعنی پانچ فیصد کا نقصان ہوگیا۔
کمپنی کی 126.25کروڑروپے کا آئی پی او14سے 16جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لئے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے کوئی خاص توجہ نہیں ملا تھا، جس کی وجہ سے یہ مجموعی طور پرصرف1.40گنا سبسکرائب ہوسکا تھا۔ ان میں سے، اہل ادارہ جاتی خریداروں(کیوآئی بیز) کے لیے مختص حصہ 1.09 بار سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں(این آئی آئیز کے لیے مختص حصہ کو بھی 1.09 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ کو 1.54 گنا سبسکرائب کیا گیا۔
اس آئی پی او کے تحت 10روپے فیس ویلیو والے کل 12,024,000 نئے شیئرز جاری کیے گئے ہیں۔آئی پی او میں نئے شیئرز کی فروختگی کے ذریعہ اکٹھا کی گئی رقم کا استعمال کمپنی مینوفیکچرنگ یونٹ میں نئی ویونگ یونٹ لگانے، پرانے قرض کے بوجھ کا ہلکا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لئے کرے گی۔
کیپٹل مارکیٹس ریگولیٹرسیبی کے پاس دائر کردہ اس کے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعووں کے مطابق، الپائن ٹیکس ورلڈ کی مالی پوزیشن کو مسلسل مضبوط کیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے مالی سال 2024-25 میں 8.63کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا تھا، جو اگلے مالی سال2025-26میں بڑھ کر21.72کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔اس دوران کمپنی کی کل آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال2024-25میں اسے237.66کروڑ روپے کا ریوینیو حاصل ہوا، جو مالی سال2025-26میں بڑھ کر 350.18کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔ اس مدت میں کمپنی پر قرض کا بوجھ بھی بڑھ گیا۔مالی سال2024-25کے آخر میں کمپنی پر166.09کروڑ روپے کے قرض کا بوجھ تھا، جو اگلے مالی سال2025-26میں بڑھ کر 177.60کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔اس مدت کے دوران کمپنی کے نیٹ ورتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال2024-25میں یہ51.13کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو2025-26میں بڑھ کر72.88کروڑ روپے ہوگیا۔کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس مدت میں کمپنی اس مورچے پر بھی برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔مالی سال2024-25میں یہ24.86کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو2025-26میں بڑھ کر46.32کروڑ روپے ہوگیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan