
ممبئی ، 2 جولائی (ہ س) مہاراشٹر اسمبلی نے خواتین کو باضابطہ طور پر کسان کا درجہ دینے کے لیے پیش کیا گیا خواتین کسان بااختیار بنانے کا بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ وزیر زراعت دتاتریہ بھرنے نے یہ بل ایوان میں پیش کیا، جبکہ قائم مقام اسپیکر سمیر کُناوار نے زبانی رائے شماری کے بعد بل کی متفقہ منظوری کا اعلان کیا۔ اس قانون کا مقصد خواتین کو مختلف سرکاری زرعی اسکیموں سے جوڑنا اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے۔
اب تک بیشتر زرعی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے زرعی زمین کی ملکیت لازمی شرط تھی۔ چونکہ ریاست کی بڑی تعداد میں خواتین کے نام پر زرعی زمین درج نہیں ہے، اس لیے وہ سرکاری اسکیموں سے محروم رہتی تھیں۔ نئے قانون کے نفاذ کے بعد اہل خواتین کو باضابطہ کسان کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ کسی خاتون کو کسان قرار دینے کا فیصلہ متعلقہ گرام سبھا کرے گی۔ بل کے تحت صرف کھیتی باڑی ہی نہیں بلکہ فصلوں کی کاشت، بیج کی پیداوار، مویشی پروری، پولٹری، ڈیری کا کاروبار، شہد کی مکھیوں کی افزائش، چارے کی کاشت، ماہی گیری اور اس سے متعلق دیگر زرعی سرگرمیوں کو بھی زراعت کی تعریف میں شامل کیا گیا ہے۔ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کسان سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی اہل ہوں گی۔
وزیر زراعت دتاتریہ بھرنے نے کہا کہ اس وقت ریاست میں 12 فیصد سے بھی کم سات بارہ ریکارڈ خواتین کے نام پر ہیں، جس کی وجہ سے وہ کئی سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد خواتین کو نہ صرف ریاستی بلکہ مرکزی حکومت کی زرعی اسکیموں سے بھی براہ راست فائدہ مل سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون ان خواتین کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا جو اپنی زمین کی مالک نہ ہونے کے باوجود کھیتوں میں مسلسل محنت کرتی ہیں یا زرعی مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے خواتین کی زرعی شعبے میں باضابطہ شناخت قائم ہوگی، ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہوگا اور زرعی ترقی میں ان کی مؤثر شمولیت کو مزید فروغ ملے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے