
تہران، 02 جولائی (ہ س)۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں پائیدار سلامتی کو امریکی فوجی موجودگی سے نہیں بلکہ خطے میں بیرونی مداخلت کے خاتمے اور علاقائی ممالک کے درمیان باہمی تعاون سے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا آو¿ٹ لیٹ پریس ٹی وی کے مطابق نائب وزیر خارجہ نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بحرین میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام ) کی سربراہی میں ہونے والے ”سلامتی مذاکرات “کے بعد یہ تبصرہ کیا۔ اس اجلاس میں12 ممالک کے فوجی حکام نے علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت جیسے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔
غریب آبادی نے کہا کہ بحرین میں منعقد ہونے والا فوجی سربراہی اجلاس خلیج فارس کے لیے قانونی نظام اور پائیدار سلامتی قائم نہیں کر سکتا۔ خطے میں سلامتی اسی صورت میں ممکن ہے جب بیرونی مداخلت ختم ہو، امریکہ اپنی فوجی موجودگی واپس لے، تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جائے اور نئی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کو قبول کیا جائے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ایران کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے نہیں۔ایران نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت پر پابندیاں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کے ابتدائی دنوں سے ہی لگائی گئی تھیں۔ بعد ازاں 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے جس میں دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر دشمنی ختم کرنے اور 60 دن کے اندر حتمی تصفیہ کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اس 14 نکاتی معاہدے کے تحت ایران نے تجارتی جہازوں کو کم از کم 60 دنوں تک بغیر ٹول کے محفوظ راستہ فراہم کرنے اور 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کے ذریعے معمول کی ٹریفک بحال کرنے کا عہد کیا ہے۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے پر مکمل خودمختاری برقرار رکھے گا۔ یہ اسٹریٹجک سمندری راستہ جنگ سے پہلے کے نظام میں واپس نہیں آئے گا اور اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی انتظامیہ کے تحت چلایا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد