
جموں, 02 جولائی (ہ س)۔
شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) جموں و کشمیر یونٹ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی حمایت میں 117 سابق سفارت کاروں، سیاست دانوں اور دانشوروں کی جانب سے جاری مشترکہ کھلے خط کو شہداء کی قربانیوں کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اگر کوئی بات چیت ہونی ہے تو اس کا واحد ایجنڈا مقبوضہ کشمیر کی واپسی ہونا چاہیے۔پارٹی کے ریاستی صدر منیش ساہنی نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی اور دھوکے کی بنیاد پر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے متعدد بار امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا، مگر ہر بار جواب دہشت گردی کی صورت میں ملا۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی لاہور بس سفارت کاری کے بعد کرگل جنگ ہوئی، پھر پارلیمنٹ حملہ، ممبئی کے 26/11 حملے، پٹھان کوٹ، پلوامہ اور حالیہ پہلگام دہشت گرد حملے جیسے واقعات پیش آئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے بھارت کی امن کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا۔منیش ساہنی نے جموں و کشمیر کے بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مذکورہ کھلے خط کی حمایت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہی اتحاد ریاستی درجے کی بحالی، جمہوری حقوق، نوجوانوں کو روزگار اور جموں کے مسائل پر نظر نہیں آتا، لیکن پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاملے پر سب ایک پلیٹ فارم پر آ جاتے ہیں۔
انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارت، ویزا اور معمول کے سفارتی تعلقات کی بحالی پر اس وقت تک غور نہ کرے جب تک پاکستان دہشت گردی کے ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا اور مقبوضہ جموں و کشمیر کو خالی نہیں کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر