
علی گڑھ, 2 جولائی (ہ س)۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کی ایک ٹیم یونیورسٹی کے پہلے سیٹلائٹ مشن‘‘ ایس ایس اے ایم یو سیٹ’’ کے پے لوڈ کا کوالیفکیشن ٹیسٹ انجام دینے کے لئے احمد آباد میں واقع اِن-اسپیس ٹیکنیکل سینٹر (آئی ٹی سی) روانہ ہوگئی ہے۔ ان آزمائشوں کی کامیاب تکمیل سیٹلائٹ کو خلائی پرواز کے لیے تیار کرنے کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور ہندوستان کے تیزی سے فروغ پاتے خلائی پروگرام میں اے ایم یو کی حصہ داری کو نمایاں کرے گی۔
‘‘ایس ایس اے ایم یو سیٹ’’ طلبہ کی قیادت والا مشن ہے، جو چھوٹے سیٹلائٹ کی انجینئرنگ اور زمین کی مشاہداتی تحقیق میں مقامی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ سیٹلائٹ رات کے وقت کی روشنیوں کا مطالعہ کرکے اقتصادی سرگرمیوں اور شہری ترقی سے متعلق تحقیق میں مدد کرے گا، اور زمین کے نچلے مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹ میں جدید آن بورڈ امیج کمپریشن ٹکنالوجی کا بھی مظاہرہ کرے گا۔
اس پے لوڈ میں ایک آن بورڈ امیجنگ سسٹم، ایک مخصوص پے لوڈ کمپیوٹر اور پاور کنڈیشننگ یونٹ شامل ہیں۔ اس میں کریڈٹ کارڈ کے حجم کا ایک الیکٹرانک نظام موجود ہے، جس میں جدید ترین امیج کمپریشن ٹکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ یہ ٹکنالوجی تصویر کے معیار اور جغرافیائی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے تصویری ڈیٹا کو 80 گنا تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے خلائی جہاز کے وزن اور لانچ کی لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے۔
اِن-اسپیس میں ہونے والے کوالیفکیشن ٹیسٹ سے ملک کے لانچ وہیکلز پی ایس ایل وی اور ایس ایس ایل وی کے ساتھ اس پے لوڈ کی میکانیکی اور برقی مطابقت کی جانچ ہوسکے گی تاکہ اس کی خلائی پرواز کے لیے مکمل تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔
طلبہ کی ٹیم میں مشرف عبداللہ، آصف علی، عبداللہ احمد صدیقی، راج سنگھ اور محمد اویس شامل ہیں، جنہوں نے اس مشن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
پروجیکٹ کے اکیڈمک رہنما پروفیسر سید فہد انور نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس پروجیکٹ سے وابستہ طلبہ نے سیٹلائٹ کے کئی اہم ذیلی نظام مکمل طور پر یونیورسٹی میں ہی تیار کیے ہیں، جن میں الیکٹریکل پاور سسٹم (ای پی ایس)، اٹیٹیوڈ ڈیٹرمینیشن اینڈ کنٹرول سسٹم (اے ڈی سی ایس)، پے لوڈ سسٹم، گراؤنڈ اسٹیشن اور اسپیس کرافٹ کے دیگر الیکٹرانک نظام شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کے ذریعہ 100 سے زائد طلبہ کو سیٹلائٹ انجینئرنگ کی عملی تربیت دی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس سے تعلیمی ادارے اور صنعت کے درمیان تعاون کو فروغ ملا، ملک کے خلائی شعبے میں اے ایم یو کی موجودگی مستحکم ہوئی، اور دو نئی تکنیکی اختراعات بھی سامنے آئیں۔
ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ یہ مشن اختراع، تحقیق اور عملی تعلیم کے فروغ کے تئیں اے ایم یو کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے باصلاحیت طلبہ ملک کی تکنیکی ترقی میں بامعنی کردار ادا کر رہے ہیں اور نئی نسل کو سائنس و خلائی ٹکنالوجی کے میدان میں کریئر اختیار کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔
یہ پروجیکٹ وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون، پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان اور رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر کی رہنمائی و سرپرستی میں تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ پروفیسر اکرام خان، پروفیسر سید فہد انور اور ڈاکٹر عادل سرور علمی رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ اس پروجیکٹ کو حکومتِ ہند کے محکمہ خلاء کے تحت اِن-اسپیس کی معاونت حاصل ہے، جبکہ اے ایم یو کے سابق طلبہ بھی اس میں قابل قدر تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ