مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ: مشاورت
نئی دہلی، 2 جولائی(ہ س )۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ملک کے ممتاز اسلامی مفکر ، نامور معلم، صاحب طرز مصنف، دور اندیش ماہرِ تعلیم اور ملتِ اسلامیہ کی مو¿ثر علمی و فکری آواز حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی? کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کر
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال ملتِ اسلامیہ کے لیے عظیم سانحہ: مشاورت


نئی دہلی، 2 جولائی(ہ س )۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ملک کے ممتاز اسلامی مفکر ، نامور معلم، صاحب طرز مصنف، دور اندیش ماہرِ تعلیم اور ملتِ اسلامیہ کی مو¿ثر علمی و فکری آواز حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی? کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک عظیم اور ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈو کیٹ نے ندوہ العلما اور جامعہ سید شہید کی انتظامیہ کے نام الگ الگ تعزیتی مکتوب میں کہا ہے کہ مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا وصال ہندوستان میں معاصر اسلامی علمی روایت کے ایک تابناک دور کے اختتام کے مترادف ہے۔ آپ نے ندوہ العلماء ، لکھنو¿ میں بطور استاد کئی دہائیوں تک قرآن و سنت کی تعلیم، اسلامی علوم کی اشاعت، علمی تحقیق اور ہزاروں طلبہ و علماء کی تربیت کا عظیم فریضہ انجام دیا۔ آپ کی گہری علمی بصیرت، وسیع مطالعہ، مو¿ثر خطابت، اعتدال پسند فکر اور دینِ اسلام کی بے لوث خدمت نے انہیں ملک اور عالمِ اسلام میں غیر معمولی عزت و احترام سے نوازا۔

صدر مشاورت نے کہا کہ تعلیم و تربیت کے میدان میں مولانا مرحوم کی دور اندیش قیادت کا نمایاں مظہر جامعہ سید احمد شہید، ملیح آباد ہے، جسے انہوں نے اس مقصد کے ساتھ قائم کیا کہ ایسے علمائ تیار ہوں جو اسلامی علمی روایت سے مضبوط وابستگی رکھنے کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں سے بھی بخوبی واقف ہوں۔ یہ ادارہ ان کی تعلیمی بصیرت، اصلاحی فکر اور ملت کی فکری تعمیر کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کا روشن ثبوت ہے۔ مولانا سید سلمان حسینی ندوی? کے انتقال سے ملت صرف ایک جلیل القدر عالم سے محروم نہیں ہوئی بلکہ ایک مخلص رہنما، شفیق مربی، صاحبِ بصیرت مفکر اور روایت و جدیدیت کے درمیان ایک مضبوط پل بھی ہم سے جدا ہوگیا۔ ان کی علمی تصانیف، خطابات، تحقیقی خدمات اور تعلیمی ادارے آئندہ نسلوں کے لیے علم و عمل کی رہنمائی کا مستقل ذریعہ رہیں گے اور ان کا علمی و فکری ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔

آل انڈیا مسلم مجلسِ مشاورت نے اس غم کی گھڑی میں ندوة العلماء کے ذمہ داران، اساتذہ، طلبہ، جامعہ سید احمد شہید کے وابستگان، مولانا مرحوم کے اہلِ خانہ، تلامذہ، رفقاء ، عقیدت مندوں اور ان تمام افراد سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے جنہوں نے ان کے علم، حکمت اور حسنِ کردار سے فیض حاصل کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande