دہلی حکومت نے پاور کمپنیوں (ڈسکام) کے سی اے جی آڈٹ کا حکم جاری کیا
نئی دہلی، 2 جولائی (ہ س)۔ دہلی حکومت نے پاور کمپنیوں (ڈسکام) کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی ) آڈٹ کے احکامات جاری کیے ہیں۔ دہلی کے وزیر توانائی آشیش سود نے کہا کہ دہلی کے ڈسکام کے سی اے جی آڈٹ کا باضابطہ حکم دہلی کے بجلی کے شعبے میں شفافیت،
ORDER-CAG-AUDIT-DISCOMS


نئی دہلی، 2 جولائی (ہ س)۔ دہلی حکومت نے پاور کمپنیوں (ڈسکام) کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی ) آڈٹ کے احکامات جاری کیے ہیں۔ دہلی کے وزیر توانائی آشیش سود نے کہا کہ دہلی کے ڈسکام کے سی اے جی آڈٹ کا باضابطہ حکم دہلی کے بجلی کے شعبے میں شفافیت، جوابدہی اور اچھی حکمرانی کی طرف ایک تاریخی قدم ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ دہلی کے ہر بجلی صارف اور ہر ایماندار ٹیکس دہندہ کی جیت ہے۔

وزیر سود نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ تقریباً 38,000 کروڑ روپے کے انضباطی اثاثے کیسے بڑھتے گئے، اس کا فائدہ کس کو ہوا، جب کہ اس کا بوجھ دہلی کے لوگوں پر پڑا۔ سی اے جی کے آڈٹ سے یہ تمام حقائق سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تجلی کے شعبے کی نجکاری کے بعد برسوں تک بہت سے مالیاتی فیصلے، خصوصی انتظامات اور مسلسل بڑھتے ہوئے بقایاجات کی عوامی جانچ نہیںہوسکی۔گزشتہ عام آدمی پارٹی (آپ) حکومت نے نظام کی جانچ کرنے کے بجائے اس کے تحفظ کے لیے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو کام عام آدمی پارٹی دس برسوں میں نہیں کر سکی، ہماری حکومت نے چند مہینوں میں ہی اس کی شروعات کردی ہے۔

وزیر سود نے کہا کہ یہ آڈٹ محض پچھلی حکومت کے اقدامات کی تحقیقات نہیں ہے، بلکہ دہلی کے بجلی کے شعبے میں جامع اصلاحات کا سنگ بنیاد ہے۔ اس کی حقیقی کامیابی کا تعین اصلاحی اقدامات، زیادہ موثر ضابطے اور اس کے بعد ہونے والے مضبوط احتساب سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں کسی بھی ایماندار ٹیکس دہندہ کو کسی کے ذاتی مفادات، خصوصی احسانات یا غلط فیصلوں کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ عوام کے پیسے کے ایک ایک روپے کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande