
مالیگاؤں، 2 جولائی (ہ س) مالیگاؤں کے سنگمیشور علاقے میں واقع کاٹے ہنومان مندر کے اطراف تقریباً 19 ایکڑ اراضی پر کھیل کے میدان کے لیے مختص ریزرویشن برقرار رکھنے کے مطالبے پر سکل ہندو سماج اور سنگمیشور کلیکٹر پٹہ بچاؤ سنگھرش سمیتی کی جانب سے جمعرات کو میونسپل کارپوریشن تک جن آکروش مارچ نکالا گیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ زمین سے کھیل کے میدان کا ریزرویشن ختم کر دیا گیا ہے، جس کے خلاف مقامی شہریوں میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔ میونسپل کمشنر کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود مظاہرین مطمئن نہ ہوئے، جس کے باعث موقع پر کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ مذکورہ 19 ایکڑ اراضی پر کھیل کے میدان کے لیے کیا گیا ریزرویشن بحال رکھا جائے، اس زمین کا منظور شدہ لے آؤٹ منسوخ کیا جائے اور متعلقہ افراد کی جائیدادوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو متعلقہ املاک کو سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ یہ احتجاجی مارچ ہندوتوا کارکن ہرشا ٹھاکر اور سننر کے کنر اکھاڑا کی مہامنڈلیشور شبھانگی شندے کی قیادت میں شری رام مندر سے شروع ہوا اور میونسپل کارپوریشن کے دفتر تک پہنچا۔ تاہم پولیس نے میونسپل کارپوریشن کے مرکزی دروازے بند کر کے مظاہرین کو عمارت کے باہر ہی روک دیا، جس کے بعد مارچ دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے اپنی مختلف مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور میونسپل کارپوریشن سے مطالبہ کیا کہ زمین کے ریزرویشن کو برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر قرارداد منظور کی جائے۔ ساتھ ہی متعلقہ افراد کی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے اور اگر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ایسی املاک کو حکومت کے قبضے میں لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
احتجاجی تنظیموں کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد کی اس اراضی کا تحفظ ضروری ہے اور اس معاملے میں شفاف تحقیقات کے ساتھ مناسب کارروائی کی جانی چاہیے۔ دوسری جانب میونسپل حکام نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات پر ضابطے کے مطابق غور کیا جائے گا، تاہم مظاہرین نے مطالبات کی عملی تکمیل تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے