
مشرقی سنگھ بھوم، 2 جولائی (ہ س)۔ ہمانشو سنگھ قتل معاملے اور ریاست میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف بی جے پی کی طرف سے 3 جولائی کو بلائے گئے جمشید پور بند کی سورن مہاسنگھ فاو¿نڈیشن بھارت اور برہمن سماج (وششٹھ سیوا شوریہ سمیتی) نےحمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں سورن مہاسنگھ فاو¿نڈیشن انڈیا کے قومی صدرڈی ڈی ترپاٹھی اور برہمن سماج کے سرپرست ڈاکٹر دلیپ اوجھا اور منا چوبے نے مشترکہ طور پر ایک بیان جاری کیا۔
ڈی ڈی ترپاٹھی نے کہا کہ ریاست میں مسلسل بڑھتے ہوئے مجرمانہ واقعات نے عوام میں خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نظم ونسق کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے عوام کا اعتماد ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمانشو سنگھ کے قتل نے لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے اور اس پورے معاملے کی غیر جانبداری سے تحقیقات کی جانی چاہیے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہر میں چاپڑ بازی، ڈکیتی اور چھیناجھپٹی جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے عام شہری غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت جرائم پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے اور اس کی پالیسیوں کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے۔
برہمن سماج کے سرپرست ڈاکٹر دلیپ اوجھا اور منا چوبے نے کہا کہ ہمانشو سنگھ قتل کیس کے تمام ملزمان کو جلد گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے مقتول کے خاندان کے لیے مناسب معاوضہ اور متوفی کی اہلیہ کے لیے سرکاری نوکری کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بروقت موثر اقدامات نہ کیے تو عوامی غصہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد