
ارریہ، 2 جولائی (ہ س)۔ بہار کے ارریہ ضلع میں ہندوستان-نیپال سرحد کے پار واقع نیپال رانی بازار کے سینکڑوں دکانداروں نے جمعرات کے روز جوگبنی میں ہندوستان-نیپال سرحدی بیرک کو توڑ دیا اور ایک گھنٹے تک احتجاج کیا۔رانی بازار کے دکانداروں کا ایک گروپ اچانک سرحد پر پہنچ گیا، بیرک کو توڑ دیااور نیپال انتظامیہ کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ احتجاج کے باعث سرحد پر ایک گھنٹے تک افراتفری مچ گئی۔ جس کے باعث دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی، جس سے آمدورفت متاثر ہوگئی۔نیپال پولیس نے ابتدائی طور پر رانی بازار کے احتجاج کرنے والے دکانداروں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن ہجوم نے منتشر ہونے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد نیپال پولیس نے زبردست لاٹھی چارج کیا جس سے احتجاج کرنے والے دکانداروں کو منتشر ہونے پر مجبور کیا گیا اور سرحد پرآمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی۔
جب کہ سرحد کے اس پار رانی بازار کی طرف جانے والی سڑک کو بیرک لگا کر بند کر دیا گیا تھا، بڑی اور چھوٹی گاڑیوں کی آمدورفت پہلے ہی محدود تھی۔ تاہم جمعرات کو نیپال پولیس نے بیرک اور تاریں لگا کر نقل و حرکت کو مکمل طور پر روک دیا۔ اس سے مقامی دکاندار مشتعل ہوگئے اور انہوں نے احتجاج کیا۔دکانداروں کے احتجاج کے بعد نیپال انتظامیہ نے رانی بازار جانے والی سڑک کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا۔ بعد میں بیرک اور تاریں ہٹا دی گئیں۔ سرحد کے دونوں جانب ٹرکوں، بسوں، کاروں اور دو پہیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔احتجاج کرنے والے مقامی دکانداروں کا کہنا تھا کہ سڑک پر بیرک اور زنجیروں نے لوگوں کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر روک دیا ہے، جس سے ان کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ لوگوں کی نقل و حرکت نہ ہونے سے ان کے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہے تھے۔ نتیجتاً وہ اپنی دکانیں بند کر کے احتجاج پر مجبور ہو گئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan