گوہاگر کے وشواس کھرے قتل کیس میں دو ملزمان کو عمر قید
رتناگیری، 2 جولائی (ہ س) رتناگیری ضلع کے گوہاگر میں پیش آئے معروف گولڈن مین اور کچھوؤں کے تحفظ کے لیے سرگرم سماجی کارکن وشواس مہادیو کھرے کے قتل کے سنسنی خیز مقدمے میں تقریباً 12 برس بعد چپلون کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے دو ملزمان کو عمر قید کی س
Guhagar Murder Case Verdict


رتناگیری، 2 جولائی (ہ س) رتناگیری ضلع کے گوہاگر میں پیش آئے معروف گولڈن مین اور کچھوؤں کے تحفظ کے لیے سرگرم سماجی کارکن وشواس مہادیو کھرے کے قتل کے سنسنی خیز مقدمے میں تقریباً 12 برس بعد چپلون کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے دو ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج ڈی بی مہالٹکر نے امول چندرکانت گاڈھوے، ساکن بوپخیل، پونے اور کرن رامداس کوچیکر، ساکن اُتم نگر، پونے کو قتل اور ڈکیتی کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید اور ایک ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دونوں کو مزید چھ ماہ قید با مشقت بھگتنا ہوگی۔

وشواس کھرے کا یکم اکتوبر 2014 کو گوہاگر میں واقع ان کے ہوم اسٹے کھرے پلیژر پوائنٹ میں قتل کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق دو سیاح سونے کی تقریباً دس تولہ وزنی چین لوٹنے کی نیت سے وہاں پہنچے تھے اور انہوں نے درانتی اور تیز دھار ہتھیار سے حملہ کرکے وشواس کھرے کو قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد گوہاگر پولیس اسٹیشن میں قتل اور ڈکیتی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ واردات کے تقریباً تین ماہ بعد رتناگیری کی لوکل کرائم برانچ اور گوہاگر پولیس نے مشترکہ تحقیقات کرتے ہوئے جنوری 2015 میں امول گاڈھوے، کرن کوچیکر اور وشنو کسان تنپورے، ساکن ڈِگھی، پونے کو گرفتار کیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل ایڈوکیٹ پرفل رام چندر سالوی نے استغاثہ کی مؤثر نمائندگی کی۔ عدالت میں مجموعی طور پر 51 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ مقتول کے اہل خانہ، عینی شاہدین، سنار، ڈاکٹروں، تحصیلدار، تحریری ماہرین اور موبائل کمپنیوں کے افسران کی گواہی کے علاوہ موبائل ٹاور کال ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر حالات و شواہد بھی پیش کیے گئے۔ اگرچہ چند گواہ منحرف ہوگئے تھے، تاہم استغاثہ نے مؤثر جرح کے ذریعے ملزمان کے خلاف شواہد کو ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

اس مقدمے کی ابتدائی تحقیقات اُس وقت کے گوہاگر پولیس انسپکٹر ونیت چودھری اور لوکل کرائم انویسٹی گیشن برانچ کے اُس وقت کے پولیس انسپکٹر ایس ایل پاٹل نے کی تھیں۔ چپلون میں تقرری کے بعد جج ڈی بی مہالٹکر نے مسلسل دلائل سننے کے بعد صرف 12 دن کے اندر اس طویل عرصے سے زیر سماعت مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد وشواس کھرے کے اہل خانہ نے انصاف ملنے پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ سرکاری وکیل نے کہا کہ اس فیصلے سے سنگین جرائم میں قانون کی بالادستی اور انصاف پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande