
اساتذہ کو بااختیار بنانا طلبہ کے اندر اعتماد پیدا کرنے اور ایک مضبوط معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ایل جی
جموں، 02 جولائی (ہ س)۔جموں و کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ اساتذہ کو بااختیار بنانا طلبہ کے اندر اعتماد پیدا کرنے اور ایک مضبوط معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔
وہ جمعرات کو بھارتی ایئرٹیل فاؤنڈیشن، اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ جموں و کشمیر اور محکمہ اسکولی تعلیم کے اشتراک سے منعقدہ ایک روزہ صلاحیت سازی پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تیار کیے گئے تدریسی وسائل کا بھی اجرا کیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ موجودہ دور میں منشیات کا بڑھتا رجحان، ذہنی دباؤ، سماجی مسائل، ڈیجیٹل دنیا کے خطرات اور بدلتے طرزِ زندگی نے اسکولوں اور اساتذہ کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشہ مکت جموں و کشمیر مہم کے تحت اساتذہ کو جدید تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ طلبہ کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت سازی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ ہر بچے کی منفرد صلاحیت کو پہچانیں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیم میں خود آگاہی، جذباتی توازن، تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور مسائل کے حل جیسی زندگی کی مہارتوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ مستقبل کے چیلنجز کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں۔ منوج سنہا نے قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اس کا مقصد ایسے شہری تیار کرنا ہے جو تخلیقی، ذمہ دار، خود کفیل اور ہمدرد ہوں۔ انہوں نے محکمہ اسکولی تعلیم جموں کی جانب سے دس اضلاع میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسوں کے آغاز کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے دور دراز علاقوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہوگی۔ تقریب کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ اور ٹوبیکو فری ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن مہم کے فاتحین کو اعزازات سے نوازا، جبکہ زندگی کی مہارتوں سے متعلق متعدد کتابوں کی بھی رونمائی کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر