
دہلی دوا گھوٹالہ: سرکاری اسپتالوں کے لیے بیڈ شیٹس کی خریداری میں 200 فیصد کمیشن خوری ہوئی: سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 2 جولائی(ہ س )
عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے جمعرات کو ریکھا گپتا حکومت کے مبینہ دوا گھوٹالے کی تیسری قسط جاری کی۔ ان کے مطابق یہ بھی 650 کروڑ روپے کے مبینہ دوا گھوٹالے کا ہی ایک حصہ ہے۔ سوربھ بھاردواج نے اسے بیڈ شیٹ گھوٹالہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کے لیے بیڈ شیٹس کی خریداری میں 200 فیصد کمیشن یا رشوت خوری کی گئی۔ ایک بیڈ شیٹ کی اصل قیمت 150 روپے تھی، لیکن ریکھا گپتا حکومت نے اسے 450 روپے میں خریدا۔ دہلی کے سرکاری اسپتالوں میں کل 15 ہزار 500 بسترے ہیں، اس کے باوجود 16 لاکھ 60 ہزار بیڈ شیٹس خریدی گئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے ہر بستر کے لیے تقریباً 106 بیڈ شیٹس خریدیں۔ اس پوری خریداری پر 75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جن میں سے تقریباً 50 کروڑ روپے کی براہِ راست لوٹ کی گئی۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بیڈ شیٹ گھوٹالہ بھی دہلی حکومت کے 650 کروڑ روپے کے مبینہ گھوٹالے کا ایک حصہ ہے۔ پہلے اسپتالوں کو اپنی ضرورت کے مطابق بیڈ شیٹس خریدنے کا اختیار حاصل تھا، لیکن موجودہ حکومت نے حکم جاری کیا کہ اب اسپتال خود کوئی خریداری نہیں کریں گے بلکہ تمام خریداری مرکزی سطح پر سینٹرل پروکیورمنٹ ایجنسی (CPA) کے ذریعے ہوگی۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جو کمپنی آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کو 150 روپے میں چادر فراہم کرتی ہے، اسی کمپنی نے دہلی حکومت کو وہی چادر 450 روپے میں فروخت کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں راجیو رنگیلا نے مبینہ طور پر اس کمپنی سے ملی بھگت کی اور اس کے خاندان کی تین کمپنیوں کو ٹینڈر کے لیے اہل قرار دلایا۔ چونکہ تینوں کمپنیاں ایک ہی شخص سے وابستہ تھیں، اس لیے پہلی کمپنی کو خریداری کا آرڈر دے دیا گیا۔ سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ 150 روپے کی چادر 450 روپے میں فروخت کرکے فی چادر 300 روپے، یعنی 200 فیصد کمیشن کمایا گیا۔ زیادہ سے زیادہ کمیشن حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بنایا گیا کہ ضرورت سے کہیں زیادہ بیڈ شیٹس خریدی جائیں۔ حکومت نے 75 کروڑ روپے خرچ کرکے تقریباً 16 لاکھ 66 ہزار بیڈ شیٹس خریدیں، جبکہ دہلی حکومت کے تمام اسپتالوں میں ملا کر صرف تقریباً 15 ہزار 500 بسترے ہیں۔ اس حساب سے ہر ایک بستر کے لیے 106 بیڈ شیٹس خریدی گئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بیڈ شیٹس زبردستی اسپتالوں پر تھوپی گئیں۔ 200 بستروں والے ایک چھوٹے اسپتال کو بھی حکومت نے 20 ہزار بیڈ شیٹس فراہم کر دیں، کیونکہ ہر بیڈ شیٹ پر کمیشن طے تھا اور زیادہ سے زیادہ کمیشن حاصل کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ بیڈ شیٹس خریدنا ضروری تھا۔ اسی طرح 75 کروڑ روپے کا یہ مبینہ گھوٹالہ انجام دیا گیا، جس میں تقریباً 50 کروڑ روپے کی لوٹ اور بندربانٹ کی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais