
جموں, 02 جولائی (ہ س)۔ لداخ سے متعلق اہم آئینی اور انتظامی مطالبات پر آج لیہہ میں مرکزی وزارتِ داخلہ اور لداخ کی علاقائی قیادت کے درمیان ایک اہم غیر رسمی اجلاس منعقد ہوگا۔ اجلاس میں لداخ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے نمائندے شریک ہوں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں 22 مئی کو نئی دہلی میں ہونے والی بات چیت کے دوران طے پانے والے اصولی اتفاقات پر عمل درآمد، لداخ کے لیے خصوصی آئینی تحفظ، منتخب قانون ساز ادارے کے قیام اور وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں انتظامی نظام دینے جیسے اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
لداخ ایپکس باڈی کے شریک چیئرمین تسیرنگ دورجے نے بتایا کہ تنظیم اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 371 کی طرز پر لداخ کو خصوصی آئینی تحفظ فراہم کرنے، قانون سازی، انتظامیہ اور مالی اختیارات سے لیس جمہوری نظام قائم کرنے اور 22 مئی کے اجلاس میں طے شدہ معاملات پر عمل درآمد کا مطالبہ کرے گی۔
اطلاعات کے مطابق لداخ ایپکس باڈی نے ایک مجوزہ انتظامی ڈھانچہ بھی تیار کیا ہے، جسے پہلے کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ بعد ازاں دونوں تنظیمیں مشترکہ مسودہ تیار کرکے وزارتِ داخلہ کے حوالے کریں گی۔
دریں اثنا، ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کا موقف ہے کہ محدود مالی وسائل کے باعث فی الحال لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینا ممکن نہیں، تاہم مستقبل میں مالی استعداد بہتر ہونے کی صورت میں اس امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ 23 جون کو ایل اے بی اور کے ڈی اے کی اپیل پر لداخ میں مکمل بند منایا گیا تھا۔
دونوں تنظیموں نے الزام عائد کیا تھا کہ مرکز 22 مئی کے اجلاس میں ہونے والے اصولی اتفاقات پر عمل درآمد سے پیچھے ہٹ گیا ہے، جس کے باعث عوام میں بے اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔یاد رہے کہ 2019 میں جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد سے لداخ کی مختلف تنظیمیں چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ، مکمل ریاست کا درجہ، لیہہ اور کرگل کے لیے الگ لوک سبھا نشستیں اور علیحدہ پبلک سروس کمیشن کے قیام سمیت کئی مطالبات کو لے کر مسلسل تحریک چلا رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر