
نئی دہلی، 02 جولائی (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دہلی کے ریاستی صدر ہرش ملہوترا اور ٹرانس-یمنا ایریا ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیئرمین ارویندر سنگھ لولی نے 24-25 جون کی رات پاکستان کے فرخ آباد میں ایک ورثہ شری گرو سنگھ سبھا گرwدوارے کو توڑے جانے کی سخت مذمت کی اور پنجاب حکومت کو نشانہ بنایا۔
دہلی پردیش کے صدر ہرش ملہوترا نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ یہ کوئی اکا-دکا واقعہ نہیں ہے، پاکستان میں سکھ، ہندو، عیسائی اقلیتوں اور ان کے مذہبی مقامات پر ایسے ہی حملے عام ہیں۔ہرش ملہوترا نے کہا کہ جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سکھوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو تحفظ کا احساس دلانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے، تووہیں پاکستانی حکومت اقلیتوں کو انتہا پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ ے ہوئے ہے اور ساتھ ہی پاکستان دہشت گردی کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔
دہلی بی جے پی کے صدر نے کہا کہ پاکستان میں سری گرو سنگھ سبھا گرودوارہ کے انہدام کے ایک ہفتہ بعد بھی پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت کی خاموشی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ہرش ملہوترا نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار بھگونت مان خود سکھ اقدار کی خلاف ورزی کے مرتکب ہیں اور اکال تخت صاحب نے انہیں سکھ مخالف قرار دیا ہے اور ایسے میں پاکستان میں گرودوارہ میں توڑپھوڑ پر سردار بھگونت مان اور اروند کیجریوال کی خاموشی ان کے سکھ اقدار کے خلاف ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔
ٹرانس یمنا ایریا ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیئرمین ارویندر سنگھ لولی نے کہا کہ ایک طرف پاکستان دنیا بھر میں اقلیتوں کا مسیحا ہونے کا ڈرامہ کرتا ہے اور دوسری طرف اس کے اپنے ہی ملک میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔
ارویندر سنگھ لولی نے کہا کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور ان کے مذہبی مقامات کو مسمار کرنے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور حکومت پاکستان کو فوری طور پر گرودوارے کی تعمیر نو کے لیے الٹی میٹم جاری کیا۔
لولی نے کہا کہ پاکستان میں جو کچھ ہوا ہے وہ یونیسکو کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے کیونکہ یونیسکو کے قوانین کے مطابق کسی بھی 100 سال پرانے مذہبی مقام کی حفاظت کرنا، اس ملک کا اولین فرض ہے اور اگر کسی مذہبی مقام کے بنیادی ڈھانچے سے چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے تو اسے یونیسکو کے قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی مقامات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی پاکستان مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے لیے ایسی بزدلانہ کارروائی کر چکا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد