ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل مقدمہ: 50 وکلاء نے وزیر اعلیٰ کوعرضداشت پیش کی
حیدرآباد ،2 جولائی (ہ س)۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے ممتاز وکلاء، تلنگانہ بارکونسل کے اراکین اورنامزدسینئر ایڈوکیٹس سمیت تقریباً50 وکلاء نے ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل کیس کی تیزرفتاراورمؤثرتحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کامطا
ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل مقدمہ: 50 وکلاء نے وزیر اعلیٰ کوعرضداشت پیش کی


حیدرآباد ،2 جولائی (ہ س)۔

تلنگانہ ہائی کورٹ کے ممتاز وکلاء، تلنگانہ بارکونسل کے اراکین اورنامزدسینئر ایڈوکیٹس سمیت تقریباً50 وکلاء نے ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل کیس کی تیزرفتاراورمؤثرتحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کامطالبہ کیا ہے۔اس سلسلے میں ریاست کے وزیراعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی کوایک عرضداشت بھی پیش کی گئی۔ میڈیا پلس آڈیٹوریم میں منعقدہ پریس کانفرنس سےوکلاء نے کہا کہ قتل کیس کی شفاف اورمؤثرتحقیقات کویقینی بنانے کے لیے فوری طورپرایک خصوصی تحقیقاتی افسرمقررکیاجائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضمانت کی درخواستوں، دیگرمتفرق مقدمات اورٹرائل کی کارروائی کے لیے بھی ایک خصوصی پبلک پراسیکیوٹرکاتقررکیاجائے، جبکہ مقتول کے فرزندکی جانب سے پہلے سے داخل درخواستوں پربھی جلد کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پریس کانفرنس سے مقتول کے فرزند ثناء اللہ فرحان،سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ مرزانثاربیگ،وی۔ راگھوناتھ، پشم سجاتھا اور اے۔ وشنو وردھن ریڈی نے خطاب کیا۔وکلاء نے مطالبہ کیاکہ اس مقدمے میں مفرورتین ملزمان عابد،منیر اورچاؤش کوفوری طورپرگرفتارکیاجائے تاکہ تحقیقات کومنطقی انجام تک پہنچایاجاسکے۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ محبوب عالم خان کے زیرانتظام تمام اوقافی جائیدادوں،خصوصاً انوارالعلوم کالج،ممتازکالج، مدرسہ اعزہ اوردیگراوقافی املاک میں مبینہ بے ضابطگیوں، اوقافی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اورغیر قانونی قبضوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔ وکلاء نے تجویز پیش کی کہ مذکورہ تحقیقات کسی ریٹائرڈ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں انجام دی جائیں تاکہ شفافیت اورغیرجانبداری کویقینی بنایا جاسکے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے وکلاء نے حکومت سے اوقافی املاک کو مبینہ قبضہ مافیا سے محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوقاف کی آمدنی کے مبینہ غلط استعمال کے نتیجے میں ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین کے قتل جیسے سنگین واقعہ نے جنم لیا، اس لیے پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہے

۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande