دفاتر میں معذور افراد کی شمولیت اب بھی کمزور، گودریج ڈی ای آئی لیب کی تحقیقاتی رپورٹ جاری
ممبئی ، 17 جولائی (ہ س)۔ گودریج انڈسٹریز گروپ کے تنوع، مساوات اور شمولیت (ڈی ای آئی) اقدام گودریج ڈی ای آئی لیب نے معذور افراد کے اعزاز کے مہینے کے موقع پر اپنی نئی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کارپوریٹ اداروں میں جسم
BUSINESS MAHA DISABILITY INCLUSION REPORT


ممبئی ، 17 جولائی (ہ س)۔ گودریج انڈسٹریز گروپ کے تنوع، مساوات اور شمولیت (ڈی ای آئی) اقدام گودریج ڈی ای آئی لیب نے معذور افراد کے اعزاز کے مہینے کے موقع پر اپنی نئی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کارپوریٹ اداروں میں جسمانی سہولیات کے میدان میں اگرچہ نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم معذور ملازمین کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹیں اب بھی ڈیجیٹل نظام اور دفتری ثقافت میں موجود ہیں، جس کے باعث حقیقی معنوں میں جامع اور مساوی کام کا ماحول قائم نہیں ہو سکا ہے۔ ایکسیسبلٹی اینڈ اِنکلوژن اِن انڈین کارپوریٹ ورک پلیسز: ڈیزائننگ ورک پلیسز دیٹ ورک فار ایوری ون کے عنوان سے جاری کی گئی اس رپورٹ کو ڈی ای آئی لیب کی محقق پشپامی کستورے نے تیار کیا ہے۔ اس تحقیق میں مختلف صنعتوں سے تعلق رکھنے والے معذور ملازمین، انسانی وسائل کے ماہرین، ایکسیسبلٹی کنسلٹنٹس، معماروں اور ڈی ای آئی شعبے کے ماہرین نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معذور افراد کی شمولیت اب صرف سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اہم کاروباری ضرورت بن چکی ہے۔ انڈیا برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں تقریباً تین کروڑ معذور افراد میں سے صرف 11.3 فیصد کو روزگار حاصل ہے، جبکہ کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے تقریباً 70 فیصد معذور افراد آج بھی بے روزگار ہیں۔رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ جو کمپنیاں معذور افراد کو اپنے اداروں میں شامل کرتی ہیں، ان کی آمدنی دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں اوسطاً 28 فیصد زیادہ ہوتی ہے، ان کا منافع 30 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اور ان کی خالص آمدنی تقریباً دوگنی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کام کی جگہ کو سب کے لیے آسان اور قابل رسائی بنانا نہ صرف ایک جامع اصول ہے بلکہ اس سے کاروباری ترقی میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ ایکسیسبلٹی صرف ریمپ، لفٹ یا دیگر بنیادی سہولیات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ دفاتر کو حقیقی معنوں میں جامع بنانے کے لیے معذور افراد کے لیے موزوں ہیومن ریسورس پلیٹ فارم، کیپشن کی سہولت والی میٹنگز، حساس طرزِ گفتگو اور ایسی دفتری ثقافت کو فروغ دینا ضروری ہے جہاں معذور ملازمین اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں اور اپنی پیشہ ورانہ ترقی جاری رکھ سکیں۔ رپورٹ میں معذور ملازمین کے ذاتی تجربات بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کے مطابق معلومات کی فراہمی، ابلاغ اور دفتری رویوں میں شعوری طور پر کی جانے والی چھوٹی تبدیلیاں بھی معذور افراد کی شمولیت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں اور انہیں خودمختار پیشہ ورانہ زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔رپورٹ کی اجرا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گودریج ڈی ای آئی لیب کے سربراہ پرمیش شاہنی نے کہا کہ اکثر ایکسیسبلٹی کو صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود سمجھا جاتا ہے، جبکہ ان کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ جامع کام کی جگہ کی تشکیل میں ٹیکنالوجی، مؤثر ابلاغ اور مثبت دفتری ثقافت تینوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ریمپ اور لفٹ جتنی اہم ہیں، اتنی ہی اہم ڈیجیٹل سہولتیں اور حساس دفتری ماحول بھی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ رپورٹ کاروباری اداروں کے رہنماؤں کے لیے جامع شمولیت کو فروغ دینے میں ایک مؤثر رہنما ثابت ہوگی۔رپورٹ میں جامع شمولیت کے لیے چار بنیادی ستونوں کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے، جن میں جسمانی، ڈیجیٹل، ابلاغی اور طرزِ عمل سے متعلق ایکسیسبلٹی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ فریم ورک کمپنیوں کو صرف قانونی تقاضے پورے کرنے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ انہیں عملی اقدامات کے ذریعے طویل مدت کے لیے جامع اور مساوی دفتری ماحول قائم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ گودریج ڈی ای آئی لیب نے یقین ظاہر کیا ہے کہ اس ماڈل کے ذریعے بھارتی کارپوریٹ اداروں میں ٹیکنالوجی اور دفتری ثقافت دونوں سطحوں پر دیرپا شمولیت کو فروغ ملے گا۔ رپورٹ گودریج ڈی ای آئی لیب کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande