موہن بھاگوت کا ’مادریت پر مکالمہ‘، وشومانگلیہ سبھا کا خصوصی پروگرام
نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س): راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت ملک کی ماترشکتی (خواتین) کے ساتھ مادریت پر مکالمہ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ 24 جولائی کو بین الاقوامی امبیڈکر سینٹر میں وشومانگلیہ سبھا کے زیر اہتم
उन्होंने बताया कि वर्तमान में संगठन का कार्य देश के ।


نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س): راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت ملک کی ماترشکتی (خواتین) کے ساتھ مادریت پر مکالمہ کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ 24 جولائی کو بین الاقوامی امبیڈکر سینٹر میں وشومانگلیہ سبھا کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس پروگرام میں ملک بھر سے تقریباً 700 خواتین نمائندوں کی شرکت ہوگی۔

بدھ کے روز کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وشومانگلیہ سبھا کی قومی تنظیمی وزیر ڈاکٹر ورشالی جوشی نے بتایا کہ آنے والے برسوں کے لیے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ مادریت کے موضوع پر سرسنگھ چالک موہن بھاگوت خواتین کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر پہلی بار مکالمہ کریں گے۔ یہ پروگرام تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے جاری رہے گا۔

اس دوران ڈاکٹر موہن بھاگوت مادریت، خاندان، سماج کی تعمیر اور قومی زندگی میں خواتین کے کردار سمیت مختلف موضوعات پر اپنے خیالات پیش کریں گے۔ پروگرام کا ایک اہم حصہ سوال و جواب کا سیشن بھی ہوگا، جس میں شریک خواتین براہِ راست سرسنگھ چالک سے سوالات کر سکیں گی اور اپنے خیالات کا اظہار بھی کریں گی۔

ڈاکٹر ورشالی جوشی نے کہا کہ آر ایس ایس کے صد سالہ جشن کے موقع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام خصوصی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنگھ کے اب تک کے پانچوں سرسنگھ چالکوں کے ادوار میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ سرسنگھ چالک ملک کی ممتاز خواتین کے ساتھ مادریت پر مکالمہ جیسے موضوع پر کھلے اور تفصیلی انداز میں گفتگو کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دہلی کے امبیڈکر بھون میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں دہلی سمیت شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے 700 سے 800 خواتین نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ ان میں تعلیم، سماجی خدمت، ثقافت، ادب، طب، قانون، انتظامیہ، صنعت اور دیگر مختلف شعبوں سے وابستہ ممتاز خواتین شامل ہوں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسی طرز کا ایک پروگرام حیدرآباد میں بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں تقریباً 1,300 نمائندوں کی شرکت کا امکان ہے۔ ان مکالموں کا مقصد سماج میں مادریت کے کردار، خاندانی نظام، اقدار کی تشکیل اور قوم کی تعمیر میں خواتین کے تعاون پر وسیع پیمانے پر غور و خوض کرنا ہے۔

ڈاکٹر ورشالی جوشی نے کہا کہ یہ مکالمہ معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے درمیان بامعنی گفتگو کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا اور مادریت کے سماجی، ثقافتی اور قومی پہلوؤں پر جامع بحث کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت تنظیم کا کام ملک کے 33 صوبوں میں جاری ہے۔ تنظیم سے 3,500 ذمہ دار کارکنان اور تقریباً 6 لاکھ خواتین وابستہ ہیں۔ حال ہی میں دہلی سمیت 23 صوبوں میں خواتین کے کنونشن منعقد کیے گئے، جن میں تقریباً 35 ہزار خواتین نے شرکت کی۔ انہی مکالموں کی بنیاد پر تنظیم نے آئندہ برسوں میں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ مادریت کے موضوع پر مختلف سرگرمیوں کے ذریعے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande