گولیوں کے سائے سے نکل کر آئی آئی ایم ناگپور پہنچے قبائلی طلبہ، جدوجہد سے خوابوں تک کا حوصلہ افزا سفر
ناگپور، 15 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے گڑچرولی اور چندرپور کے نکسل متاثرہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 18 طلبہ، جنہوں نے برسوں گولیوں کی آواز، بارود کی بو اور نکسلی تشدد کے خوف کے درمیان زندگی گزاری، اب نئے خوابوں اور روشن مستقبل کی امید کے س
EDUCATION MAHA TRIBAL STUDENTS IIM VISIT


ناگپور، 15 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر کے گڑچرولی اور چندرپور کے نکسل متاثرہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 18 طلبہ، جنہوں نے برسوں گولیوں کی آواز، بارود کی بو اور نکسلی تشدد کے خوف کے درمیان زندگی گزاری، اب نئے خوابوں اور روشن مستقبل کی امید کے ساتھ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) ناگپور پہنچے۔ عالمی معیار کے تعلیمی ماحول کا مشاہدہ کرتے ہوئے طلبہ کی آنکھوں میں بہتر مستقبل کے خواب نمایاں نظر آئے۔ اس موقع پر آئی آئی ایم ناگپور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بھیم رایا میتری نے طلبہ سے بے تکلف گفتگو کرتے ہوئے اپنی جدوجہد بھری زندگی کے تجربات بیان کیے اور تعلیم کے ذریعے زندگی بدلنے کا پیغام دیا۔

مہاراشٹر کے کئی اضلاع طویل عرصے تک نکسلی تشدد سے متاثر رہے ہیں، تاہم مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مشترکہ کوششوں اور سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد ان علاقوں کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اب جنگلات میں خوف کی جگہ تعلیم، ترقی اور خود انحصاری کی نئی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔ اسی مثبت تبدیلی کے تحت چندرپور کی سماجی تنظیم جاگرت نے گڑچرولی اور چندرپور کے 12 طلبہ اور 6 طالبات کے لیے خصوصی تعلیمی مطالعاتی دورے کا اہتمام کیا، جس کے دوران انہیں آئی آئی ایم ناگپور کا دورہ کرایا گیا۔

عالمی معیار کے کیمپس، جدید تعلیمی عمارتوں، وسیع لائبریری اور جدید سہولیات کو دیکھ کر طلبہ بے حد پرجوش نظر آئے۔ ان کے لیے یہ صرف ایک تعلیمی ادارے کا دورہ نہیں بلکہ اپنے خوابوں کو نئی سمت دینے والا ایک یادگار تجربہ ثابت ہوا۔ اس موقع پر آئی آئی ایم ناگپور کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بھیم رایا میتری نے رسمی خطاب کے بجائے خاندان کے سربراہ کی طرح طلبہ سے کھل کر بات چیت کی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی دور کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق مہاراشٹر کے ضلع ستارا کے جت-آٹپاڑی علاقے کے ایک انتہائی پسماندہ گاؤں سے ہے، جہاں اس وقت ہائر سیکنڈری اسکول تک موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سخت حالات کے باوجود مسلسل محنت اور تعلیم کے ذریعے وہ آج اس مقام تک پہنچے ہیں۔

انہوں نے طلبہ سے کہا کہ اگر والدین تعلیم یافتہ نہ بھی ہوں تو یہ کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ اگر مقصد واضح ہو اور دیانت داری سے محنت کی جائے تو کوئی بھی مشکل انسان کو کامیابی سے نہیں روک سکتی۔ گفتگو کے دوران ایک طالبہ نے سوال کیا کہ زندگی میں زیادہ اہمیت سخت محنت کی ہے یا اسمارٹ ورک کی؟ اس پر ڈاکٹر میتری نے جواب دیا کہ سخت محنت کا کوئی متبادل نہیں۔ جب مسلسل محنت نتائج دینے لگتی ہے تو وہی محنت خود بخود اسمارٹ ورک بن جاتی ہے۔

پروگرام کے دوران آئی آئی ایم ناگپور کے پروفیسر شیلندر نگم نے بھی طلبہ کو ادارے کی ترقی، نظام تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے مختلف مواقع سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مالی مشکلات سے متعلق طلبہ کے خدشات دور کرتے ہوئے کہا کہ آئی آئی ایم جیسے ممتاز اداروں میں اصل سرمایہ قابلیت اور محنت ہے۔ انہوں نے میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر دی جانے والی اسکالرشپس، سرکاری اسکیموں اور تعلیمی قرض کی سہولتوں کی معلومات فراہم کرتے ہوئے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ مالی وسائل کی فکر چھوڑ کر صرف اپنی محنت پر توجہ دیں، کیونکہ ان کی کامیابی ہی ان کے خاندان، سماج اور ملک کے لیے باعثِ فخر ہوگی۔

آئی آئی ایم ناگپور کا یہ دورہ قبائلی طلبہ کے لیے زندگی بدل دینے والا تجربہ ثابت ہوا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ملک کے ایک ممتاز انتظامی تعلیمی ادارے کے ڈائریکٹر بھی انہی جیسے مشکل حالات سے نکل کر اس مقام تک پہنچے ہیں تو ان کے اندر بھی بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا نیا اعتماد پیدا ہوا۔ اس مطالعاتی دورے میں اجئے مہاکا، رنجو مڈاوی، نلیش مڈاوی، بالاجی کلنگا، لکشمی دروے، مونیکا کوٹناکے، اجئے کوڈاپے، شنکر کنّاکے، راجو کلنگا، چنّا مہاکا سمیت دیگر طلبہ شریک تھے۔ اپنے دیہات واپس لوٹتے وقت ان کے ساتھ صرف آئی آئی ایم کی یادیں ہی نہیں بلکہ بڑے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا پختہ عزم بھی تھا۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande