
نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے مبینہ پیپر لیکس اور تعلیمی شعبے میں بے قاعدگیوں کو لے کر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر روک لگانے کی درخواست پر مرکز اور دہلی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی قیادت والی بنچ نے 16 جولائی کو اس معاملے کی سماعت کا حکم دیا۔
یہ درخواست وکیل راکیش کمار سینی نے دائر کی ہے۔ سماعت کے دوران سینی نے کہا کہ انسانی حقوق کا ایک کارکن اپنے احتجاج کے حق کا استعمال کرکے پوری قوم کے سامنے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے 16 جولائی کو سماعت کا حکم دیا۔ عدالت نے مرکزی اور دہلی حکومتوں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے پر اپناموقف پیش کریں۔ عدالت نے مرکزی اور دہلی حکومتوں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کو بھی عرضی گزار کوعرضی کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی اور دہلی حکومتوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ سونم وانگچک کو اسپتال لے جائیں اور انہیں کھانا کھلائیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگچک کی صحت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ آج ان کی بھوک ہڑتال کا 18 واں دن ہے اور سونم وانگچک کا ساڑھے آٹھ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اگر وہ مزیدبھوک ہڑتال کرتے ہیں تو ایک یا دو دن میں ان کی حالت جان لیو ا ہوسکتی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر سونم وانگچک کی موت ہوتی ہے تو یہ پورے ملک اور دنیا کے لیے شرمناک بات ہوگی۔
وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے منعقدہ احتجاج میں شامل ہوئے اور تب سے مسلسل بھوک ہڑتال پر ہیں۔ یہ احتجاج میڈیکل داخلہ جاتی امتحانات (نیٹ) پیپر لیک اور تعلیم کے شعبے میں دیگر بے قاعدگیوں پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر نے کے لئے کیا جارہاہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی