متحدہ عرب امارات سمیت چار ممالک میں پاسپورٹ ویزا کے اجراء کے عمل پر ہائی کورٹ سخت
نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے متحدہ عرب امارات، کویت، سنگاپور اور آسٹریلیا میں ہندوستانی پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کے لئے وزارت خارجہ کی طرف سے کی جانے والی تکنیکی تشخیص کے عمل کومنسوخ کر دیا ہے۔ جسٹس انل کھیترپال کی سربراہی والی بن
ویزا


نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س)۔ دہلی ہائی کورٹ نے متحدہ عرب امارات، کویت، سنگاپور اور آسٹریلیا میں ہندوستانی پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کے لئے وزارت خارجہ کی طرف سے کی جانے والی تکنیکی تشخیص کے عمل کومنسوخ کر دیا ہے۔ جسٹس انل کھیترپال کی سربراہی والی بنچ نے مشاہدہ کیا کہ ان ممالک میں پاسپورٹ اور ویزا کے اجراء میں کافی من مانی اور شفافیت کا فقدان ہے۔

وزارت خارجہ نے پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کے لیے ٹینڈرز طلب کئے تھے۔ وزارت خارجہ نے تکنیکی طور پر کچھ کمپنیوں کو اس ٹینڈر میں نااہل قرار دیا تھا۔ تکنیکی طور پر نااہل قرار دی گئی کمپنیوں میں سے دو، ای-ٹریو ٹیک لمیٹڈ اور ویراسیس لمیٹڈ نے وزارت خارجہ کے انہیں ٹینڈر کے عمل سے نااہل قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج کیاتھا۔

ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ سے ٹینڈر جیتنے والی کمپنیوں کے ٹینڈرکو خارج کرنے کا بھی حکم دیا۔ تاہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ لوگوں کے کام میں خلل نہ پڑے، ان کمپنیوں کو جو اس وقت پاسپورٹ اور ویزا جاری کرنے کی خدمات فراہم کر رہی ہیں انہیں کام جاری رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ، قانون کے مطابق، موجودہ کمپنیاں اس وقت تک کام کرتی رہیں گی جب تک کہ تازہ ترین ٹینڈر کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا اور نئی کمپنیوں کا تقرر نہیں ہو جاتا۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ تکنیکی تشخیص میں قابلیت کی بنیاد پر نمبرات دینے کے طریقے میں من مانی کی گئی اور ٹینڈرنگ کے عمل میں کوئی شفافیت نہیں تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ وزارت خارجہ اور متعلقہ بھارتی ہائی کمیشن نے جنرل فنانشل رولز کے رولز 173(4) اور 189 کی خلاف ورزی کی۔ جن کے ٹینڈر خارجہوئے انہیں ان کے خارج ہونے کی وجوہات سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande