
نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س)۔
کانگریس کے پنجاب انچارج بھوپیش بگھیل نے ریاست میں چنی گروپ اور امریندر سنگھ راجا وڈنگ کے گروپوں کی آپسی رسہ کشی کے درمیان چل رہی قیادت کی تبدیلی کی خبروں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح قیادت کی تبدیلی آسان نہیں ہوتی۔
پنجاب کانگریس انچارج بھوپیش بگھیل نے یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست کے حالیہ واقعات پر اپنی رپورٹ آرگنائزیشن جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کو سونپ دی ہے اور اب آگے کا فیصلہ پارٹی اعلیٰ کمان کرے گی۔ انہوں نے چھ روزہ دورے کے دوران ریاستی کانگریس کمیٹی کے اجلاسوں میں حصہ لیا اور رہنماوں سے ذاتی سطح پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ رپورٹ کے مندرجات کو عام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پنجاب کانگریس میں قیادت کی تبدیلی کی قیاس آرائیوں پر کہا کہ یہ ’گڈے گڑیوں کا کھیل‘ نہیں ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، پنجاب اسمبلی میں حزبِ اختلاف رہنما پرتاپ سنگھ باجوہ نے بھی وینوگوپال سے ملاقات کی۔ دوسری طرف، کانگریس قیادت نے یکم جولائی کو امریندر سنگھ راجا وڈنگ کو پنجاب پردیش کانگریس صدر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور سابق وزیرِ اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی کو انتخابی مہم کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ اس فیصلے سے ناراض چنی گروپ اور کئی سینئر رہنماوں نے قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔
بگھیل نے چنڈی گڑھ دورے کے دوران چنی سمیت ناراض اور غیر مطمئن رہنماوں سے ملاقات کر کے اپنی رپورٹ اعلیٰ کمان کو سونپ دی ہے۔ حالانکہ، جس طرح سینئر رہنماوں کا ایک بڑا طبقہ وڈنگ کے خلاف ہے، اس سے مانا جا رہا ہے کہ کانگریس قیادت متبادلات پر غور کر رہی ہے۔ اسی دوران راہل گاندھی نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور کے سی وینوگوپال سے ملاقات کی۔ وینوگوپال نے پنجاب میں مقننہ پارٹی کے لیڈر پرتاپ سنگھ باجوہ سے بھی بات چیت کی۔
اس دوران کانگریس پارلیمانی حکمتِ عملی گروپ 16 جولائی کو کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر میٹنگ کرے گا۔ اس میں پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون سیشن کے لیے پارٹی کی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ اس میٹنگ میں پنجاب کانگریس کے قیادت کے تنازعہ پر بھی بحث ہو سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن