
نئی دہلی، 15 جولائی (ہ س) ۔دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) اور نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) کے درمیان گائے کے گوبر کو سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانے اور دہلی میں کمپریسڈ بائیو گیس (سی بی جی) پلانٹس کے قیام کے لیے مرکزی وزیر داخلہ اور امداد باہمی امت شاہ کی موجودگی میں بدھ کے روز ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ دسمبر 2028 تک جمنا میں ایک لیٹر بھی گندا پانی نہ جائے۔
مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ترنجیت سنگھ سندھو، وزیر اعلی ریکھا گپتا، مرکزی داخلہ سکریٹری، مرکزی کوآپریٹو سکریٹری اور مرکزی اور دہلی حکومتوں کے کئی سینئر افسران مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کی تقریب میں موجود تھے۔
اپنے خطاب میں امت شاہ نے کہا کہ یہ معاہدہ ملک کے تمام بڑے شہروں کے لیے صفائی کا نمونہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے مویشیوں کے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، شہری صفائی کو فروغ ملے گا، کمپریسڈ بائیو گیس پیدا ہوگی اور نامیاتی کاشتکاری کو بھی نئی رفتار ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر شہری جمنا کو صاف دیکھنا چاہتا ہے لیکن جمنا میں پڑنے والی آلودگی کو روکے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ وزیر اعظم نریندر مودی کے جمنا کی صفائی کے عزم کو پورا کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ دہلی میں سیوریج کے پانی اور صنعتی فضلے کے ٹریٹمنٹ کے لیے تقریبا 80 ٹریٹمنٹ پلانٹس پر کام شروع ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی ایک ایسا نظام تیار کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں گائے کے گوبر کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی جمنا تک نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں تقریبا 1.25 لاکھ مویشیوں کے کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگائے بغیر جمنا کو صاف کرنا ممکن نہیں ہے۔
شاہ نے کہا کہ گائے کے گوبر کی سائنسی پروسیسنگ ننگلی، گھوگھا-گوئلا اور غازی پور میں قائم کیے جانے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے والے پلانٹس کے ذریعے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل نہ صرف دہلی بلکہ ملک کے تمام میٹرو شہروں کے لیے ایک مثالی نمونہ بنے گی اور مستقبل میں دیہی علاقوں میں لاکھوں مویشی پالنے والوں کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت گائے کا گوبر فراہم کرنے کے لیے مویشی پالنے والوں کو ایک روپے فی کلو ادا کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے مویشیوں کے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، گائے کے گوبر کے سائنسی استعمال کو یقینی بنایا جائے گا اور صاف توانائی کی پیداوار کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی فروغ ملے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی