بی جے پی نے طاہر حسین پر عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، کیجریوال کی خاموشی پر سوال اٹھایا
نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کیا ہے۔ بی
طاہر


نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کے معاملے میں عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) اور کانگریس پارٹی پر سخت حملہ کیا ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آئی بی افسر انکت شرما کا ڈیوٹی کے دوران بے دردی سے قتل کیا گیا اور مجرموں کو سزا مل گئی ہے۔

منگل کو بی جے پی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان گورو بھاٹیہ نے کہا کہ عدالت نے دہلی فسادات معاملہ میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین کے ساتھ جاوید، انس، ناظم اور قاسم کو مجرم قرار دیا۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ مجرموں نے یہ جرم ایک سازش اور مشترکہ مقصد کے تحت کیا۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ انکت شرما کا قتل ایک بڑی سازش کا حصہ تھا۔

بی جے پی کے ترجمان نے کہا کہ واقعہ کے وقت اروند کیجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ تھے اور طاہر حسین ان کی پارٹی سے منتخب کونسلر تھے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ 2020 میں پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے یقین دلایا تھا کہ فسادات میں ملوث تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ انصاف، قانون اور آئین کی فتح ہے۔

گورو بھاٹیہ نے کانگریس پارٹی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے شہریت ترمیمی قانون کو لے کر ملک میں کنفیوژن پھیلایا اور لوگوں کو اکسایا۔ انہوں نے کانگریس قائدین سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے سے سوال کیا کہ سی اے اے کے نفاذ کے بعد کتنے مسلمانوں نے اپنی شہریت کھو دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جواب صفر ہے۔

انہوں نے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے عدالت کے فیصلے کو بدقسمتی قرار دینے والے بیان پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande