
وارانسی، 14 جولائی (ہ س): اتر پردیش کے وارانسی میں واقع گیان واپی مسجد تنازعہ کے حل کے لیے سپریم کورٹ کی پہل پر منگل کو منعقد کی گئی ثالثی کارروائی (پری سیٹلمنٹ مذاکرات) کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ ضلع و سیشن عدالت کے احاطے میں واقع ثالثی مرکز میں ہوئی میٹنگ میں مدعی ہندو فریق اور مدعا علیہ مسلم فریق نے ثالثی کے ذریعے تنازعہ حل کرنے سے انکار کر دیا۔ دونوں فریق اپنے اپنے دعووں پر قائم رہے۔ اب رپورٹ سپریم کورٹ کو بھیجی جائے گی، جس کی بنیاد پر آئندہ عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ثالثی مرکز میں گیان واپی سے متعلق مختلف مقدمات کے فریقین اور ان کے وکلا کو مدعو کیا گیا تھا۔ چار مقدمات سے متعلق فریقین میٹنگ میں پہنچے، لیکن کسی نے بھی مفاہمت یا سمجھوتے کے عمل کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اس کے بعد تنازعہ کے حل کے لیے سب کی نظریں اب سپریم کورٹ کے اگلے اقدام پر مرکوز ہیں۔
مدعی ہندو فریق کے سینئر وکیل سبھاش نندن چترویدی نے بتایا کہ انہیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ بات چیت کے ذریعے حل نکالنا آسان نہیں ہوگا۔ مذہبی اور قانونی پہلوؤں سے جڑے اس تنازعہ میں دونوں فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو سکا۔ اب ثالثی کی مکمل رپورٹ سپریم کورٹ کو بھیجی جائے گی اور اسی کی بنیاد پر آئندہ عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ثالثی کامیاب نہیں ہوتی ہے تو اس کے بعد فیصلہ کرنا مکمل طور پر سپریم کورٹ کا اختیار ہے۔ عدالت رپورٹ کا جائزہ لے کر آئندہ سماعت اور ضروری احکامات طے کرے گی۔
وکیل نے کہا کہ مدعی ہندو فریق مسلسل یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ گیان واپی احاطے میں ہندو عقیدت مندوں کو ان کے مذہبی حقوق کے مطابق پوجا، عبادت اور درشن کی اجازت دی جائے۔ اب اس معاملے میں حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا ہے اور تمام فریق عدالت کے حکم کے پابند ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اب اگلی سماعت اہم ہوگی۔ ثالثی کا عمل ختم ہونے کے بعد معاملہ ایک بار پھر عدالتی کارروائی کے مرکز میں آ گیا ہے۔
دوسری جانب، ثالثی کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی مدعا علیہ مسلم فریق نے اس سے دوری اختیار کر لی تھی۔ انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی نے ایک روز قبل جاری خط میں واضح کر دیا تھا کہ وہ میٹنگ میں شامل نہیں ہوگی۔ کمیٹی کے جوائنٹ سکریٹری ایس ایم یاسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے خصوصی لوک عدالت اور ثالثی کے ذریعے تنازعہ حل کرنے کی میٹنگ میں شرکت لازمی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر میٹنگ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
دوسری طرف، گیان واپی اور شرنگار گوری معاملے سے متعلق مدعی فریق اور ان کے وکلا نے کہا کہ گیان واپی احاطے پر ان کا دعویٰ ہے اور اس معاملے میں ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلم فریق بات چیت کے لیے تیار ہوتا تو مذاکرات ممکن تھے، ورنہ تنازعہ کا حتمی حل عدالت کے فیصلے سے ہی ہوگا۔ مدعی فریق کی لکشمی دیوی نے کہا کہ وہ کسی بھی قسم کے سمجھوتے یا ثالثی کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دستیاب شواہد ہندو فریق کے حق میں ہیں اور ان کا مطالبہ پوری گیان واپی زمین پر مندر کے حق کا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ سال 2022 سے یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔ عدالت نے حال ہی میں تنازعہ کے پرامن حل کے امکانات تلاش کرنے کے مقصد سے خصوصی لوک عدالت اور ثالثی کے عمل کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اسی سلسلے میں منگل کو وارانسی کے ضلع و سیشن عدالت احاطے میں واقع ثالثی مرکز میں پری سٹلمنٹ مذاکرات منعقد کیے گئے۔ تاہم دونوں فریقوں کے عدم تعاون کے باعث یہ کوشش کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکی۔ اب معاملے میں کوئی پیش رفت سپریم کورٹ کی اگلی سماعت اور اس کے احکامات میں ہی مضمر ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد