سنبھل میں ایک بار پھر بلڈوزر کارروائی ، انتظامیہ نے عیدگاہ کو غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے منہدم کر دیا
سنبھل، 14 جولائی (ہ س): اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے ڈھانچوں کو منہدم کرنے کی کارروائی تیزی سے جاری ہے۔ اسی سلسلے میں منگل کو ضلع کے اسمولی تھانہ علاقے کے گاؤں مڑھن میں ایک عیدگاہ پر بلڈوزر کارروائی کرت
سنبھل میں ایک بار پھر بلڈوزر کارروائی ، انتظامیہ نے عیدگاہ کو غیر قانونی تعمیر قرار دیتے ہوئے منہدم کر دیا


سنبھل، 14 جولائی (ہ س): اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے ڈھانچوں کو منہدم کرنے کی کارروائی تیزی سے جاری ہے۔ اسی سلسلے میں منگل کو ضلع کے اسمولی تھانہ علاقے کے گاؤں مڑھن میں ایک عیدگاہ پر بلڈوزر کارروائی کرتے ہوئے اسے منہدم کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق عید گاہ سرکاری زمین

پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس دوران تین تھانوں کی پولیس فورس تعینات رہی۔

گاؤں مڑھن میں قبرستان کی زمین، گاٹا نمبر 208 اور گاٹا نمبر 210 (رقبہ 0.128 ہیکٹیئر) پر کیے گئے غیر قانونی قبضے کو ہٹانے کے لیے تحصیلدار نے بے دخلی کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس کے لیے تحصیلدار دھیریندر پرتاپ سنگھ نے نائب تحصیلدار دیپک جوریل کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی، جو منگل کو کارروائی کے لیے مڑھن گاؤں پہنچی۔ اس کے بعد تحصیلدار، آر اے ایف اور تین تھانوں کی پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے اور غیر قانونی عیدگاہ پر بلڈوزر کارروائی کی۔

اس معاملے میں معلومات دیتے ہوئے تحصیلدار سنبھل دھیریندر پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ تحصیل کے مڑھن گاؤں میں گاٹا نمبر 208، 210، 218 اور 417 کو قبرستان کے لیے محفوظ کیا گیا تھا، لیکن بعد میں وہاں عید گاہ بنا دی گئی۔ ان کے مطابق گاٹا نمبر 210 آج بھی قبرستان کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، تاہم گاٹا نمبر 208 پر بعض مقامی مافیا عناصر نے اس کا استعمال تبدیل کرتے ہوئے اسے عیدگاہ میں تبدیل کر دیا اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا، جس سے گاؤں میں ناراضی پائی جا رہی تھی کیونکہ مقامی لوگ قبرستان کی زمین کو قبضہ سے آزاد کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی لیے آج عیدگاہ کو ہٹا کر قبرستان کو اس کی اصل شکل میں بحال کر دیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande