
اوریا، 14 جولائی (ہ س)۔
اتر پردیش کے اوریا ضلع میں سوموار کی دیر شام اور رات کو تین الگ الگ واقعات میں ایک شادی شدہ خاتون، ایک 15 سالہ نوجوان اور ایک 70 سالہ ریٹائرڈ سب انسپکٹر نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ ان تینوں واقعات سے پورے ضلع میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔پہلے واقعے میں سہار تھانہ علاقہ کے حجیا پور گاوں میںایک شادی شدہ خاتون سوکرتی اہلیہ گوتم نے گھر کے برآمدے میں پنکھے کے ہک سے دوپٹہ کے سہارے پھانسی لگاکرخودکشی کر لی۔ واقعے کے وقت وہ گھر میں اکیلی تھی۔ خاندان کے افراد رشتہ داری میں گئے ہوئے تھے جبکہ اس کا شوہر اپنی بہن کے لیے لڑکا دیکھنے باہر گیا ہوا تھا۔ جب وہ باہر نہ نکلی تو خاندان والوں نے اندر جا کر دیکھا تواس کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔ وہ اپنے پیچھے ایک سال کی معصوم بیٹی چھوڑ گئی۔ایک دوسرے واقعے میں اچھلدا بلاک کے سیوپور گاوں میں 15 سالہ کومل راجپوت ولد چندربھان راجپوت نے اپنے کمرے میں پنکھے میں دوپٹہ باندھ کر پھانسی لگا لی۔ دیر رات خاندان والوں نے دیکھا کہ وہ دوپٹے کے سہارے پنکھے سے لٹکا ہوا ہے۔ والد نے ڈائل 112 پر اطلاع دی، پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیااور خودکشی کے وجوہات کے بارے میں پولس تفتیش کررہی ہے۔ایک تیسرے واقعے میںاوریا ضلع کے بیدھونا کوتوالی علاقے کے کلیان پور جاگو گاوں میں 70 سالہ ریٹائرڈ سب انسپکٹر شیام سنگھ کی لاش کھیت میں آم کے درخت پر لٹکاہوا ملا۔ وہ شام کو گھر سے نکلے تھے اور دیر رات تک واپس نہیں آئے۔کافی تلاش کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔اسی درمیان رات قریب نو بجے گاؤں والوں نے اطلاع دی کہ گاؤں کے باہر کھیت میں ایک آم کے پیڑسے ایک شخص کی لاش پھندے پرلٹکا ہوا ملا ہے۔ اطلاع ملتے ہی اہل خانہ موقع پرپہنچے اور لاش کی شناخت کی۔ پولیس نے موقع کا معائنہ کیا اور لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔تینوں تھانوں کی پولیس نے ابتدائی تفتیش میں تمام واقعات کو خودکشی قرار دیا ہے۔ ابھی تک خودکشی کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور مزید تفتیش کے بعد آگے کی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ان تینوں واقعات نے ضلع بھر میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ذہنی تناو، خاندانی مسائل اور دیگر وجوہات اس کی وجہ ہو سکتی ہیں۔ انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے واقعات روکنے کے لیے لوگوں میں آگاہی پھیلائی جائے اور ضرورت مند افراد کو مشورہ و تعاون فراہم کیا جائے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan