
نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س): سپریم کورٹ نے سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی نئی تین زبانوں کی پالیسی کو چیلنج کرنے والی دو نئی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور سی بی ایس ای کو نوٹس جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی ویکیشن بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 29 جولائی کو مقرر کی ہے۔
اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے 18 جون کو فرینڈس آف پیپل فار ایکٹو ڈیموکریسی نامی ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کی اسی نوعیت کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور سی بی ایس ای کو نوٹس جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 27 مئی کو طلبہ، والدین اور اساتذہ کی جانب سے دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکز اور سی بی ایس ای کو اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔
عرضیوں میں کہا گیا ہے کہ سی بی ایس ای کی نئی تین زبانوں کی پالیسی کے تحت نویں جماعت سے دو مزید زبانوں کا مطالعہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان تین زبانوں میں دو بھارتی زبانوں کا پڑھنا ضروری ہوگا۔ عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نویں جماعت کے طلبہ پر اچانک دو اضافی زبانوں کی لازمی تعلیم کا بوجھ ڈالنے سے ان کی دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔ عرضی میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ طلبہ اتنے کم وقت میں دو نئی زبانیں کیسے سیکھیں گے اور دسویں جماعت کے امتحانات کیسے دیں گے، جس سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ پالیسی یکم جولائی سے نافذ العمل ہوگی۔
عرضیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سی بی ایس ای نے تمام متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت کیے بغیر راتوں رات اس پالیسی میں تبدیلی کر دی۔ اگر کوئی طالب علم تین زبانوں میں کسی غیر ملکی زبان، جیسے فرانسیسی، جرمن یا کوئی دوسری غیر ملکی زبان پڑھنا چاہتا ہے، تو اسے صرف تیسری زبان کے طور پر ہی منتخب کرنا ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد