پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے لیے حکومت کا اہم ایجنڈا: بدعنوانی ، معیشت، تعلیم سے متعلق اہم بلوں کی تیاری
نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں حکومت کی جانب سے انتظامی اصلاحات، معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ، تعلیمی نظام میں تبدیلیوں اور انتخابی ڈھانچے سے متعلق کئی اہم بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جن میں سیاستدانوں کے خلاف بدع
PAR-MONSOON-AGENDA-GOVT


نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں حکومت کی جانب سے انتظامی اصلاحات، معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ، تعلیمی نظام میں تبدیلیوں اور انتخابی ڈھانچے سے متعلق کئی اہم بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جن میں سیاستدانوں کے خلاف بدعنوانی کے معاملوں میں قانون کو مضبوط بنانے کا بل کے علاوہ انتخابی حلقوں کی حد بندی سے متعلق آئینی ترمیمی بل بھی شامل ہے، جو گزشتہ اجلاس میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔

حکومت کے اندر موجود معتبر ذرائع کے مطابق، انسداد بدعنوانی بل حکومت کی ترجیحات میں ہے جس کا تعلق بدعنوانی کے معاملوں میں طویل عرصے تک جیل میں رہنے والے عوامی نمائندوں سے ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد بدعنوانی کے سنگین مقدمات میں قانون کو مزید موثر اور جوابدہ بنانا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ بدعنوانی کے خلاف سخت اور واضح قانونی ڈھانچہ جمہوری اداروں کی ساکھ کو مضبوط کرے گا۔ اپوزیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان قوانین کا سیاسی مقاصد کے لیے غلط استعمال کیا جائے گا، حالانکہ حزب اختلاف کے رہنماو¿ں نے کہا ہے کہ وہ بل کی دفعات کا مکمل مطالعہ کرنے کے بعد ہی تبصرہ کریں گے۔

اقتصادی شعبے میں حکومت کیپٹل مارکیٹس اصلاحی بل لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کا مقصد ہندوستانی شیئر بازار کو زیادہ شفاف، محفوظ اور جدید بنانا ہے۔ مجوزہ اصلاحات میں سرمایہ کاروں کے مفادات کے بہتر تحفظ، انضباطی طریقہ کار کو آسان بنانے، ڈیجیٹل سرمایہ کاری کے نظام کو مضبوط بنانے اور سرمایہ جمع کرنے کے عمل کو ہموار کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر مو¿ثر طریقے سے لاگو کیا جاتا ہے، تو یہ بل غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، اسٹارٹ اپس اور صنعتوں کو سرمایہ فراہم کرنے اور ہندوستان کو عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر قائم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تناظر میں کمپنی ایکٹ (ترمیمی) بل بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں، حکومت ”ایز آف ڈوئنگ بزنس“(کاروبار کرنے میں آسانی) کو فروغ دینے کے لیے قواعد و ضوابط کو مسلسل آسان بنا رہی ہے۔ نئی ترامیم کا مقصد کارپوریٹ طرز حکمرانی کو مضبوط کرنا، تعمیل کے غیر ضروری بوجھ کو کم کرنا، کمپنیوں کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانا اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانا ہے۔ اس سے خاص طور پر بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ای ) اور نئی کمپنیوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

تعلیم اس وقت ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ ہندوستھان سماچار سے بات کرتے ہوئے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیمی اصلاحات بل کے ذریعے تعلیم کے شعبے میں جامع تبدیلیاں لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس بل کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی ) کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس میں یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ضابطے کو مزید موثر بنانے، معیار کو بہتر بنانے، تحقیق کو فروغ دینے، ڈیجیٹل تعلیم کو مضبوط بنانے اور اداروں کو زیادہ خود مختاری دینے جیسے مسائل شامل ہو سکتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے عالمی مسابقت کے لیے ہندوستانی اعلیٰ تعلیمی نظام مضبوط ہوگا۔

ان بلوں کے علاوہ حکومت پارلیمنٹ میں کئی اہم آئین (ترمیمی) بل بھی پیش کر سکتی ہے۔ اگرچہ ان ترامیم کی حتمی شکل ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے، لیکن خیال کیا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ سیاسی اہمیت حد بندی سے متعلق ممکنہ قانون سازی کے اقدامات ہیں۔ آئندہ مردم شماری کے بعد لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا عمل قومی سیاست میں ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ جنوبی ہند کی کئی ریاستیں پہلے ہی خدشات کا اظہار کر چکی ہیں کہ آبادی کی بنیاد پر سیٹوں کی دوبارہ تقسیم سے ان کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ آبادی والی ریاستوں کو اضافی سیٹیں ملنے کی توقع ہے۔ نتیجتاً، حد بندی سے متعلق کسی بھی قانون سازی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وفاقی ڈھانچے کے بارے میں وسیع سیاسی بحث اور فکر انگیز بات چیت کو جنم دے گا۔ یہ بل گزشتہ سیشن میں بھی پیش کیا گیا تھا لیکن دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے پاس نہ ہو سکا۔

دوسری جانب اپوزیشن ان تجاویز کے آئینی جواز، سیاسی زیادتی اور مفاد عامہ پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کا خیال ہے کہ ان بلوں کے ذریعے بی جے پی اپنی سیاسی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande