
بنگلورو، 14 جولائی (ہ س) ۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے منگل کو بنگلورو انٹرنیشنل ایگزیبیشن سینٹر (بی آئی ای سی) میں منعقدہ گوگل آئی ۔او کنیکٹ انڈیا۔2026 پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کرناٹک کو ہندوستان کا مصنوعی ذہانت (اے آئی) راجدھانی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اے آئی پر مبنی تعلیم، تحقیق، اختراعات اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات شروع کرنے جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگلورو کانیا کے پانچ سرفہرست اے آئی شہروں میںشامل ہونا اور بھارت کے تقریباً40فیصدیونی کارن اسٹارٹ اپس کاکرناٹک میں ہونا ریاست کی قابلیت، مضبوط اختراعی ماحولیاتی نظام اور کاروباری صلاحیت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک نے طویل عرصے سے ملک کے ٹیکنالوجی کے شعبے کی قیادت کی ہے اور اب اس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی عالمی سطح پر موجودگی قائم کرنا ہے۔
ڈی کے شیوکمار نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت ملک کی پہلی حکومت کی زیر قیادت اے آئی یونیورسٹی اور اے آئی اختراعی مرکز قائم کرے گی۔ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اے آئی کی تعلیم اسکول کی سطح سے طلبائ کے لیے دستیاب کرائی جائے گی، تاکہ نئی نسل خود کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے تیار کر سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرناٹک کے ساحلی علاقوں اور بنگلورو کے قریب جدید ترین گرین ڈیٹا سینٹرز تیار کیے جائیں گے تاکہ اے آئی پر مبنی معیشت کو مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔ یہ پروجیکٹ ریاست کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط کریں گے اور صنعتوں کو اعلیٰ معیار کی تکنیکی سہولیات فراہم کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت کے ’بیانڈ بنگلورو‘ پہل کے تحت، میسور، منگلورو، ہبلی۔دھارواڑ، بیلگاوی، اور کالابوراگی کو عالمی معیار کے ٹکنالوجی مرکز میں تیار کیا جائے گا۔ اس سے بنگلورو پر دباو کم ہوگا اور ریاست کے دیگر خطوں کے نوجوانوں کو عالمی روزگار، سرمایہ کاری اور اختراع کے مواقع فراہم ہوں گے۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا مقصد انسانوں کی جگہ لینا نہیں ہے بلکہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتر اور آسان بنانا ہے۔ ریاستی حکومت کسانوں کے لیے کنڑ زبان میں اے آئی پر مبنی زرعی مشاورتی خدمات تیار کرے گی۔ دیہی صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے، تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا بھی وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے’گورنمنٹ فرسٹ کسٹمر‘ پالیسی کا بھی ذکر کیا، یہ بتاتے ہوئے کہ ریاستی حکومت اختراع پر مبنی اسٹارٹ اپس کے ذریعہ تیار کردہ حل اپنانے والی پہلی ہوگی۔ اس سے ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات کو جانچنے، بہتر بنانے اور اسکیل کرنے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جدت طرازی، جامع ترقی اور بصیرت کی پالیسیوں کے ذریعے کرناٹک مستقبل میں بھی ملک کے ٹیکنالوجی اور اختراعی شعبے کی قیادت کرتا رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan