
نئی دہلی، 14 جولائی (ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ٹینکروں پر حملوں میں ایک ہندوستانی ملاح کی موت اور کئی دیگر کے زخمی ہونے کے بعد، ہندوستانی حکومت نے سخت موقف اپناتے ہوئے ایرانی سفارت خانے سے سینئر ترین سفارت کار کو طلب کیا ہے۔ ایرانی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن محمد جواد حسینی نے وزارت خارجہ کا دورہ کیا۔ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ میٹنگ کے دوران ہندوستانیوں پر حملوں سے متعلق خدشات سے سفارت خانے کے اہلکار کو آگاہ کیا گیا۔
اس سے پہلے منگل کی صبح متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اطلاع دی تھی کہ ٹینکرز 'ممباسا' اور 'بہیا' کو دو ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ 'ممباسا' ٹینکر پر سوار ایک ہندوستانی عملے کا رکن اس حملے میں مارا گیا، جب کہ آٹھ دیگر - چھ ہندوستانی اور دو یوکرائنی شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حملے کے بعد دونوں ٹینکروں میں آگ لگ گئی تاہم بعد میں آگ پر قابو پالیا گیا۔
متحدہ عرب امارات نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ حملہ علاقائی استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے اوریہ کہ ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد