
ممبئی ، 14 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر حکومت نے پونے ضلع کے موشی علاقے میں پیش آئے المناک عمارت حادثے کی جامع تحقیقات کے لیے پونے ڈویژنل کمشنر شیتل تیلی۔اگالے کی سربراہی میں چھ رکنی اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کو حادثے کی بنیادی وجوہات، تکنیکی خامیوں اور ذمہ دار افراد و اداروں کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ریاستی حکومت کے محکمہ شہری ترقی کے ذرائع کے مطابق 8 جولائی کو موشی ویسٹ ٹو انرجی پروجیکٹ میں پیش آنے والے اس حادثے میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی حادثے کے تمام تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور یہ طے کرے گی کہ کوتاہی کے لیے کون سے افسران، ٹھیکیدار یا متعلقہ ادارے ذمہ دار تھے۔ کمیٹی اپنی رپورٹ میں ان کے خلاف مناسب کارروائی کی سفارش بھی کرے گی۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر ابتدائی رپورٹ اور دو ماہ کے اندر اپنی حتمی رپورٹ حکومت کو پیش کرے۔ حتمی رپورٹ میں ذمہ دار افراد کی واضح نشاندہی کے ساتھ مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اصلاحی اقدامات بھی تجویز کیے جائیں گے۔ اس اعلیٰ سطحی کمیٹی میں مہاراشٹر پولوشن کنٹرول بورڈ کے نامزد علاقائی افسر، آئی آئی ٹی بمبئی کے جیو ٹیکنیکل اور اسٹرکچرل انجینئرنگ کے ماہر پروفیسر ڈی این سنگھ، ماحولیاتی انجینئرنگ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ماہر پروفیسر انیل کمار دکشت اور پمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن کے اسسٹنٹ کمشنر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ بھی شامل ہوں گے، جو کمیٹی کے رکن سکریٹری کی ذمہ داری بھی نبھائیں گے۔
کمیٹی کو یہ جانچنے کا مکمل اختیار دیا گیا ہے کہ آیا سینیٹری لینڈ فل میں جمع کیے گئے کچرے کے ڈھیر کی اونچائی، ڈھلان، استحکام اور کچرا جمع کرنے کا طریقہ طے شدہ تکنیکی معیارات کے مطابق تھا یا نہیں۔ اس کے علاوہ کچرے کے نیچے دب جانے والی انتظامی عمارت کے مقام، اس کی ساختی مضبوطی اور حفاظتی معیار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ حکومت نے کمیٹی کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ حادثے سے قبل کچرے کے ڈھیر کے سرکنے، زمین دھنسنے، شدید بارش یا دیگر ممکنہ خطرات سے متعلق موصول ہونے والی شکایات، ای میلز، واٹس ایپ پیغامات، تصاویر اور دیگر تمام ریکارڈ کا باریک بینی سے معائنہ کیا جائے۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ متعلقہ افسران، ٹھیکیداروں یا دیگر اداروں نے ان انتباہات پر بروقت کارروائی کی تھی یا نہیں، اور اگر حفاظتی یا اصلاحی اقدامات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
تحقیقات کے دوران سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رولز 2016، سینٹرل پبلک ہیلتھ اینڈ انوائرمنٹ انجینئرنگ آرگنائزیشن کی ہدایات، ماحولیاتی منظوری کی شرائط، معیاری آپریٹنگ طریقہ کار اور دیگر حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی تکنیکی اور انتظامی دونوں زاویوں سے غیر جانبدارانہ، جامع اور گہرائی سے تحقیقات کرے گی۔ حکومت نے کمیٹی کو افسران، ٹھیکیداروں، پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹس اور ماہرین کو طلب کرنے، ان کے بیانات قلم بند کرنے، فائلوں، معاہدوں، تکنیکی منظوریوں، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈرون سروے رپورٹس اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کا مکمل اختیار بھی دیا ہے۔
اگر تحقیقات میں انتظامی غفلت، تکنیکی خامیاں، معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی، ماحولیاتی قوانین کی پامالی یا حفاظتی انتظامات میں کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو کمیٹی ذمہ دار افراد کے خلاف محکمہ جاتی اور فوجداری کارروائی کی سفارش کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ لینڈ فل کی ڈھلان کو محفوظ بنانے، بارش کے پانی کے مؤثر انتظام، خطرات کے پیشگی اندازے، ابتدائی وارننگ سسٹم اور آفات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانے کے لیے فوری اور طویل مدتی تجاویز بھی پیش کرے گی۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے