آندھرا پردیش میں کووڈ-19 سے 2 افراد کی موت، مزید نئے معاملات سامنے آنے کے بعد تلنگانہ میں بھی الرٹ
حیدرآباد ،14 جولائی (ہ س)۔ آندھرا پردیش میں کووڈ-19 سے متاثردوافرادکی موت اورچندنئے فعال کیسزسامنے آنے کے بعد پڑوسی ریاست تلنگانہ میں بھی احتیاطی تدابیراختیارکرنے کی ضرورت پرزوردیاجارہا ہے۔ اگرچہ فی الحال آندھراپردیش میں سامنے آنے والے کیسزمحدود
اے پی میں کووڈ-19 سے 2 افراد کی موت، مزید نئے کیسز کے بعد تلنگانہ میں بھی الرٹ


حیدرآباد ،14 جولائی (ہ س)۔ آندھرا پردیش میں کووڈ-19 سے متاثردوافرادکی موت اورچندنئے فعال کیسزسامنے آنے کے بعد پڑوسی ریاست تلنگانہ میں بھی احتیاطی تدابیراختیارکرنے کی ضرورت پرزوردیاجارہا ہے۔

اگرچہ فی الحال آندھراپردیش میں سامنے آنے والے کیسزمحدود ہیں، تاہم ڈاکٹرس کاکہناہے کہ کروناوائرس ماضی میں تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا تھا،اس لیے عوام کوکسی بھی قسم کی لاپرواہی سے گریزکرناچاہیے۔۔آندھراپردیش کے محکمۂ صحت نے صورتحال کے پیشِ نظر فوری طور پر نگرانی (سرویلنس) مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ محکمہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بخار، کھانسی، گلے میں درد یا سانس لینے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہونے پر فوراً قریبی ڈاکٹر یا ہاسپٹل سے رجوع کریں اوراحتیاطی تدابیر پرعمل کریں تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ آندھرا پردیش میں الرٹ جاری ہونے کے بعد ریاست اڈیشہ نے بھی احتیاطی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ ریاستی حکومت نے تمام اضلاع، خصوصاً سرحدی علاقوں میں نگرانی بڑھانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ سانس کی بیماری کی علامات رکھنے والے افراد کی ضروری جانچ کی جائے، اگرچہ وہاں اب تک کووڈ-19 کا کوئی نیامثبت کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ دوسری جانب تلنگانہ کے محکمۂ صحت نے ابھی تک کووڈ-19 کے حوالے سے کوئی باضابطہ عوامی ایڈوائزری جاری نہیں کی ہے۔ تاہم ریاست بھر میں موسمی وائرل بخار، انفلوئنزا، نمونیااوردیگرسانس کی بیماریوں کے مریضوں میں اضافہ ضرور دیکھا جا رہا ہے۔ حیدرآباد، ورنگل اور دیگر شہروں کے بستی دواخانوں میں اس وقت زیادہ تر وائرل انفیکشن کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے، جبکہ شدید سانس کی بیماری(ایس اے آرآئی)اور انفلوئنزا جیسی بیماریوں (آئی ایل آئی) کی خصوصی نگرانی کے لیے ابھی تک کوئی الگ مہم شروع نہیں کی گئی ہے۔ سینئرڈاکٹرس کے مطابق مرکزی وزارتِ صحت کی جانب سے بھی ابھی تک کووڈ-19 کے حوالے سے کوئی نیا الرٹ یا خصوصی ہدایت جاری نہیں ہوئی، اسی لیے ریاست میں بڑے پیمانےپراسکریننگ یا خصوصی جانچ مہم شروع کرنے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیاگیاہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس اب ایک پینڈ یمک بیماری کی صورت اختیارکرچکا ہے،جس کے باعث ہر سال برسات اور سردیوں کے موسم میں ایسے کیسز سامنے آسکتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام کوخوفزدہ ہونے کے بجائے احتیاط اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ بروقت احتیاط ہی بیماری سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ محکمۂ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روزانہ صابن اور پانی سے بار بار ہاتھ دھوئیں، ذاتی صفائی کا خاص خیال رکھیں، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ اور ناک کو ٹشو یا کہنی سے ڈھانپیں اور سانس کی بیماری میں مبتلا افراد سے مناسب فاصلہ برقراررکھیں۔ بزرگ افراد، حاملہ خواتین اور شوگر، بلڈ پریشر،دل یا پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد ڈاکٹرکے مشورے سے سالانہ فلو ویکسین بھی لگوا سکتے ہیں۔ محکمۂ صحت نے مزید ہدایت دی ہے کہ گھروں، دفاتراورعوامی مقامات پر زیادہ استعمال ہونے والی سطحوں کو باقاعدگی سے جراثیم کش محلول سے صاف رکھا جائے۔ اگرکسی شخص کو وائرل بخار، انفلوئنزا یا سانس کی بیماری کی علامات ہوں تو وہ عوامی مقامات پر جانے سے گریز کرے، مناسب آرام کرے اور بخار، مسلسل کھانسی، گلے میں دردیاسانس لینے میں دشواری کی صورت میں فوری طور پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کرے۔ صحت ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پرنظررکھی جا رہی ہے اور عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ اگر احتیاطی تدابیرپرعمل کیاجائے اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت طبی مشورہ حاصل کیا جائے تو کسی بھی ممکنہ پھیلاؤ کو مؤثراندازمیں قابومیں رکھا جاسکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande