اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خوردہ افراط زر کی شرح جون میں 4.38 فیصد تک پہنچی
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س)۔اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں تیزی کی وجہ سے ملک میں خوردہ افراط زر کی شرح جون میں چھلانگ لگا کر4.38فیصد پر پہنچ گئی ہے، جبکہ مئی میں یہ 3.93 فیصد تھی۔ خوردہ شرح مہنگائی میں یہ اضافہ بنیادی طور پراشیائے خوردنی کی قیمتوں م
Retail-inflation-Rise-food-prices


نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س)۔اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں تیزی کی وجہ سے ملک میں خوردہ افراط زر کی شرح جون میں چھلانگ لگا کر4.38فیصد پر پہنچ گئی ہے، جبکہ مئی میں یہ 3.93 فیصد تھی۔ خوردہ شرح مہنگائی میں یہ اضافہ بنیادی طور پراشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، سی پی آئی پر مبنی خوراک کی افراط زر جون میں بڑھ کر 5.32 فیصد ہو گئی، جو مئی میں 4.78 فیصدسے زیادہ ہے۔ اس طرح، اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے بنیادی افراط زر کی شرح(مہنگائی کی شرح) پر دباو¿ ڈالا۔ اعداد و شمار کے مطابق خاص طور پر ادرک اور ٹماٹر جیسی سبزیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ نے عام آدمی کے باورچی خانے کے بجٹ کو متاثر کیا ہے۔

قومی شماریات کے دفتر کے مطابق، شہری علاقوں کے مقابلے دیہی علاقوں میں مہنگائی کا اثر زیادہ رہا ہے۔ جون میں دیہی علاقوں میں افراط زر کی شرح 4.74 فیصد رہی جبکہ شہری علاقوں میں 3.92 فیصد رہی ۔

حکومت نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو دو فیصد کی کمی یا اضافے کے ساتھ خوردہ افراط زر کی شرح کو چار فیصد پر برقرار رکھنے کی ذمہ داری دی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande