
نئی دہلی، 13 جولائی (ہ س)۔ جنوبی دہلی کے امبیڈکر نگر علاقے میں کھانے کی ڈلیوری کو لے کر معمولی تنازعہ خونی واقعے میں بدل گیا۔ ایک 18 سالہ نوجوان کی چاقو سے ہوئی موت کے معاملے میں امبیڈکر نگر پولس تھانہ نے صرف چند گھنٹوں میں ہی اس معاملے کو حل کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کی نشاندہی پر پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والا چاقو بھی برآمد کرلیا۔
پولیس کے مطابق، 10 جولائی کی رات تقریباً 9:30 بجے، امبیڈکر نگر پولیس اسٹیشن کو ایک پی سی آر کال موصول ہوئی جس میں ایک نوجوان کو چاقو گھونپنے کی اطلاع تھی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور فوری طور پر شدید زخمی کرشنا روشن (18) کو ایمس ٹراما سینٹر پہنچایا۔ علاج کے دوران اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
قتل کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔ جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا، مقامی باشندوں سے پوچھ گچھ کی گئی اور تکنیکی شواہد کے ساتھ مقامی طور پر معلومات اکٹھی کی گئیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ واقعہ کسی پرانی دشمنی کا نتیجہ نہیں بلکہ کھانے کی ڈلیوری پر معمولی جھگڑے کا نتیجہ تھا۔
پولیس کے مطابق ملزمان پہلے ہی ناراض تھے کہ انہیں وقت پر ڈلیوری نہیں ملی ۔ انہوں نے کرشنا روشن کو روکا اور ان سے بحث کی۔ جھگڑا بڑھنے پر ملزم نے اس پر چاقو سے حملہ کر دیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی تلاش شروع کردی۔ تفتیش کے دوران ملنے والے سراغ کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے جہاںپناہ سٹی فاریسٹ میں چھاپہ مارا اور دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
گرفتار ملزمان کی شناخت راہل عرف دھوبی اور راہل تومر عرف موٹا کے طور پر کی گئی ہے۔ دونوں دکشن پوری کے سبھاش کیمپ کے رہنے والے ہیں۔ دوران تفتیش پولیس نے ان کے مقام سے قتل میں استعمال ہونے والا چاقو برآمد کرلیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور اس بات کا بھی تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا اس جرم میں کوئی اور شخص ملوث تھا۔ معاملے کی تفصیلی تفتیش جاری ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کس طرح معمولی جھگڑے اور لمحاتی غصہ ایک خاندان کی خوشیوں کو مستقل طور پر تباہ کر دیتے ہیں۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ معمولی تنازعات کو تشدد میں بدلنےکے بجائے قانونی اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی