
مظفرآباد،یکم جولائی (ہ س)۔
پاکستان کے قبضے والے کشمیر (پی او کے) میں پاکستان کی وفاقی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔ اس تحریک کی قیادت کالعدم جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کر رہی ہے۔ جے اے اے سی کے سربراہ شوکت نواز میر کو ان کے دو ساتھیوں سمیت دھیرکوٹ کے علاقے سنگر پھتارے سے گرفتار کیا گیا۔ پی او کے میں کمیٹی کے 600 سے زائد رہنماو¿ں اور کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ اور دی واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق منگل کو راول کوٹ کے عید گاہ گراو¿نڈ میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے اور اعلان کیا کہ پی او کے پاکستان کا حصہ نہیں ہے۔ حکومت پاکستان نے شوکت نواز میر اور کمیٹی کے دیگر رہنماو¿ں کی گرفتاری میں مدد کرنے والی اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔ جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز کو 30 جون کو گرفتار کیا گیا ۔
مظفرآباد کے ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شوکت نواز میر کو مظفرآباد اور باغ کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ریاض مغل نے بتایا کہ شوکت پولیس کو متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔ اسے دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی پی او کے میں پناہ گزینوں کے لیے مخصوص اسمبلی نشستوں کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر منیر قریشی نے کہا کہ جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ شوکت نواز میر پر غداری کا الزام ہے۔ اس پر رواں ماہ کے شروع میں ہونے والے مظاہروں کے دوران تشدد بھڑکانے کا الزام ہے، جس میں کم از کم چار سکیورٹی اہلکار اور تین شہری مارے گئے تھے۔ پی او کے حکومت نے اس مہینے کے شروع میں جے اے اے سی پر پابندی لگا دی تھی، امن و امان کے لیے خطرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کمیٹی دہائیوں قبل ہندوستانی کشمیر سے پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجرین کے لیے مخصوص اسمبلی کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تنازعہ اس وقت بڑھ گیا جب پی او کے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ پناہ گزینوں کے لیے مخصوص نشستیں آئینی طور پر مقرر ہیں اور آئینی ترمیم کے بغیر اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسمبلی کی پانچ سالہ مدت ختم ہو چکی ہے، اور یہ مسئلہ اگلے ماہ ہونے والے انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی تنازعہ بن گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ