
ممبئی ، یکم جولائی (ہ س)۔ ملک میں ہر سال زنگ کے باعث تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی نقصان، اسٹین لیس اسٹیل کی بڑھتی ہوئی درآمدات اور ملکی پیداواری صلاحیت کے کم استعمال جیسے سنگین چیلنجز کے پیش نظر ہندوستان کی اسٹین لیس اسٹیل صنعت نے مرکزی حکومت سے قومی اسٹین لیس اسٹیل پالیسی اور قومی اینٹی کوروژن مشن نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعت کا کہنا ہے کہ ایسی جامع پالیسی کے ذریعے گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا، خام مال کی دستیابی اور تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا اور ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں زنگ سے محفوظ اسٹین لیس اسٹیل کے استعمال کو بڑھایا جا سکے گا۔
یہ مطالبہ ممبئی میں انڈین اسٹین لیس اسٹیل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن اور گلوبل اسٹین لیس اسٹیل ایکسپو کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے اعلان کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس ایس ڈی اے کے صدر راجامنی کرشن مورتی نے کہا کہ بھارت میں اسٹین لیس اسٹیل کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 75 لاکھ ٹن ہے، لیکن اس وقت اس صلاحیت کا صرف 60 سے 65 فیصد ہی استعمال ہو رہا ہے۔ دوسری جانب ملکی طلب کا تقریباً 25 سے 28 فیصد حصہ اب بھی درآمدات، خصوصاً چین سے آنے والے اسٹین لیس اسٹیل کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس اسٹین لیس اسٹیل کے شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرنے کی پیداواری صلاحیت اور تکنیکی مہارت موجود ہے، تاہم اس کے لیے مضبوط اور الگ پالیسی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس وقت صنعت کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہے، جن میں سستی درآمدات اور اسٹین لیس اسٹیل کے لیے الگ قومی پالیسی کا فقدان شامل ہے۔
کرشن مورتی نے کہا کہ اسٹین لیس اسٹیل کو اب بھی عام اسٹیل کے زمرے میں رکھا جاتا ہے، حالانکہ اس کی تیاری، خام مال کی ضرورت اور استعمال کے شعبے عام اسٹیل سے مکمل طور پر مختلف ہیں۔ ان کے مطابق اگر الگ قومی اسٹین لیس اسٹیل پالیسی نافذ کی جائے تو خام مال کی مسلسل فراہمی یقینی ہوگی، نئی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور بھارت ویلیو ایڈڈ اسٹین لیس اسٹیل کی عالمی پیداوار کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں فی کس اسٹین لیس اسٹیل کی کھپت صرف 3.5 کلوگرام ہے، جبکہ عالمی اوسط 6 سے 7 کلوگرام کے درمیان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت صرف عالمی اوسط تک بھی پہنچ جائے تو مزید 30 سے 40 لاکھ ٹن اضافی پیداواری صلاحیت درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، ریلوے، شہری ترقی، قابل تجدید توانائی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مرکزی حکومت کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے پیش نظر اسٹین لیس اسٹیل پائیدار اور طویل مدتی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
راجامنی کرشن مورتی نے زنگ یا کوروژن کو ملک کی معیشت پر ایک خاموش بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ہر سال اپنی مجموعی گھریلو پیداوار کا تقریباً چار فیصد، یعنی تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے، عوامی انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، صنعتی اثاثوں اور دیگر بنیادی سہولیات میں زنگ لگنے کی وجہ سے کھو دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب منصوبہ بندی اور معیاری مواد کے استعمال سے اس نقصان کا بڑا حصہ روکا جا سکتا ہے۔
ورگو کمیونیکیشنز اینڈ ایگزیبیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر انیتا رگھوناتھ نے کہا کہ آئی ایس ایس ڈی اے اور گلوبل اسٹین لیس اسٹیل ایکسپو کے درمیان یہ شراکت داری صنعت کو عالمی سطح پر ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق آئی ایس ایس ڈی اے صنعت کا تکنیکی تجربہ اور قیادت فراہم کرتی ہے، جبکہ گلوبل اسٹین لیس اسٹیل ایکسپو مینوفیکچررز، صارفین، تکنیکی ماہرین اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا عالمی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کا مقصد مختلف شعبوں میں اسٹین لیس اسٹیل کے استعمال کو فروغ دینا، تکنیکی معلومات کا تبادلہ بڑھانا اور بھارت سمیت عالمی منڈیوں میں صنعت کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
جندل اسٹین لیس لمیٹڈ کے گروپ ہیڈ برائے مارکیٹنگ اینڈ سیلز راجیو گرگ نے کہا کہ یہ شراکت داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی صنعت کو پالیسی سے متعلق معاملات پر اپنی اجتماعی آواز مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اسٹین لیس اسٹیل صارف ہے، لیکن فی کس استعمال اب بھی عالمی اوسط سے کافی کم ہے، جبکہ چین، ویتنام اور دیگر ممالک سے بڑھتی ہوئی درآمدات گھریلو صنعت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مشترکہ پلیٹ فارم صنعت کو غیر منصفانہ درآمدات، خام مال کے تحفظ، انفراسٹرکچر کی لائف سائیکل پر مبنی منصوبہ بندی اور پائیدار صنعتی ترقی جیسے اہم معاملات پر حکومت کے ساتھ مؤثر اور بامعنی مکالمہ قائم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے