امریکہ اور ایران نے لبنان ’ڈی-کانفلیکشن سیل‘ کے لیے مندوب مقرر کیے : قالیباف
امریکہ اور ایران نے لبنان ’ڈی-کانفلیکشن سیل‘ کے لیے مندوب مقرر کیے : قالیباف تہران، یکم جولائی (ہ س)۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران نے لبنان ’ڈی-کانفلیکشن سیل‘ (تصادم روکنے والی اکائی) کے لیے مندوب مقر
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف


امریکہ اور ایران نے لبنان ’ڈی-کانفلیکشن سیل‘ کے لیے مندوب مقرر کیے : قالیباف

تہران، یکم جولائی (ہ س)۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران نے لبنان ’ڈی-کانفلیکشن سیل‘ (تصادم روکنے والی اکائی) کے لیے مندوب مقرر کیے ہیں۔ ان مندوبین کا بنیادی مقصد دو مخالف یا الگ الگ قوتوں کے درمیان غلط فہمی کو روکنا، فوجی تصادم کو ٹالنا اور باہمی تعاون یا جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ تقرریاں سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئی تاریخی بات چیت کے دوران لبنان میں تناو کم کرنے اور جنگ بندی پر عمل درآمد کرانے کے لیے ایک خصوصی ’لبنان ڈی-کانفلیکشن سیل‘ کی تشکیل پر اتفاق ہونے کے بعد کی گئی ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سرکاری پریس ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ایران اور عمان پہلے ہی آبنائے ہرمز میں سمندری خدمات کے انتظام سے متعلق تمام قانونی اور سروس سے متعلق معاملات پر معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت تب تک آگے نہیں بڑھے گی جب تک ایم او یو کی پانچ شرائط کو نافذ نہیں کیا جاتا۔ ان شرائط میں لبنان میں جنگ کو روکنا، ایرانی تیل کی برآمدات کو محفوظ کرنا اور ایران کے منجمد اثاثوں کو جاری کرنا شامل ہے۔

انہوں نے دلیل دی کہ ایران-امریکہ ایم او یو کا مقصد لبنان کی آزادی کو برقرار رکھنا ہے۔ قالیباف کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی ’’طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری برقرار رکھے گا۔ ایم او یو سے اس آبی گزرگاہ میں سمندری خدمات کے چارجز سے صرف 60 دنوں کی عارضی چھوٹ ملتی ہے۔

پریس ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق، پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا، ’’یہ ہمارے علاقائی سمندری حدود ہیں۔ ہم امریکہ کو یہ دعویٰ کر کے تنازعہ یا غلط دلیل پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کی فوجی ناکہ بندی (ملٹریائزیشن) کی ہے۔ ایران کسی بھی حال میں اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ آبی گزرگاہ ایران کے لیے خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے‘‘۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande