
استنبول ، یکم جولائی (ہ س)۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے بارے میں ایک تہلکہ خیز بیان جاری کیا ہے۔ بینیٹ نے کہا کہ نیتن یاہو اپنی حکومت کو مو¿ثر طریقے سے چلانے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے دائیں بازو کے وزراءاور الٹرا آرتھوڈوکس گروپ انہیں مو¿ثر طریقے سے کنٹرول کرتے ہیں۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولوکے مطابق بینیٹ نے الزام لگایا کہ ہریڈیم (انتہائی آرتھوڈوکس گروپس) بشمول قومی سلامتی کے وزیرایتمار بین گویئر اور وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ، نیتن یاہو کی پالیسیوں کو متاثر کر رہے ہیں، اور یہ کہ حکومت میں قیادت کی کمی کا مطلب ہے کہ فیصلے آزادانہ طور پر نہیں کیے جا رہے ہیں۔
بینیٹ نے کہا کہ اگر وہ اقتدار میں ہوتے تو وہ فوری طور پر ایسے بیانات یا پالیسیوں کو کنٹرول کرتے اور وزراءکو نظم و ضبط میں لاتے، جو کچھ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو ایسا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ اتحادی شراکت داروں پر منحصر ہیں۔سابق وزیراعظم نے اسرائیل کے بین الاقوامی امیج پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا امیج بیرونی پروپیگنڈے یا میڈیا سے نہیں بلکہ حکومت کے اپنے رویے سے خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیل میں عوامی سفارت کاری کا فقدان ہے۔بینیٹ نے کہا کہ غزہ ، لبنان اور ایران کے محاذوں پر طویل فوجی تنازعات اسرائیل کی روایتی فوجی حکمت عملی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طویل جنگیں ملکی معیشت اور ریزرو فوجیوں پر بہت زیادہ دباو¿ ڈال رہی ہیں۔بینیٹ نے کہا ، ’ اگر جنگ لڑنی ہے تو اسے تیز اور فیصلہ کن ہونا چاہیے ، تاکہ فتح جلد حاصل ہو اور استحکام حاصل کیا جا سکے۔ طویل جنگیں ملک کو کمزور کر دیتی ہیں۔ ‘ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan