
نئی دہلی، یکم جولائی(ہ س)۔ ایتھنک ویئر بنانے والی کمپنی ریاست لائف اسٹائل نے آج زبردست گراوٹ درج کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 106 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 20 فیصد کی رعایت کے ساتھ84.80 روپے کی سطح پر درج ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد فروخت کے دباو کی وجہ سے کمپنی کے حصص تھوڑے ہی عرصے میں 80.60 روپے کی نچلی سطح پر پہنچ گئے۔ اس طرح ٹریڈنگ کے پہلے دن کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو 25.40 روپے فی حصص یعنی 23.96 فیصد کا جھٹکا لگا ہے۔
ریاست لائف اسٹائل کا 30.2 کروڑ روپے کا آئی پی او 18 اور 25 جون کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے ہلکا ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 1.32 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میں سے اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کو 20.33 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو صرف 0.09 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ جبکہ خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو صرف0.44 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 28,48,800 نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او کی آمدنی کو چار نئے شو روم قائم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
ریاض لائف اسٹائل کی مالی صحت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کردہ ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئیہے۔ مالی سال 2022تا2023 میں، کمپنی کا خالص منافع 1.32 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 4.08 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 24تا2025 میں بڑھ کر4.87 کروڑ روپے ہو گیا۔ پچھلے مالی سال کے پہلے دس مہینوں یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک کمپنی کا خالص منافع 4.29 کروڑ روپے تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2022تا2023 میں 20.94 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 23.34 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 25.19 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 2025تا2026 کے پہلے دس مہینوں میں، یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک، کمپنی کو 28.13 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرض کا بوجھ بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2022تا2023 کے اختتام پر، کمپنی پر 1.02 کروڑ روپے کا قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 2023تا2024 میں بڑھ کر 4.74 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 8.87 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 کے پہلے دس مہینوں میں یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک کمپنی پر قرض کا بوجھ کم ہو کر 38.97 کروڑ روپے کی سطح پرآگیا تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022تا2023 میں یہ 2.15 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر6.23 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، 2024تا2025 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت گھٹ کر13.10 کروڑ روپے کی سطح پرآگئی۔ ساتھ ہی یہ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 کے پہلے دس مہینوں یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک 17 کروڑ 39 لاکھ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
معمولی اتار چڑھاو کے باوجود اس عرصے کے دوران کمپنی کے رزرواور سرپلس میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022تا2023 میں یہ 1.40 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر5.48 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، 2024تا2025 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس قدرے کم ہو کر5.21 کروڑ روپے رہ گئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ گزشتہ مالی سال کے پہلے دس مہینوں یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک 9.50 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بفور انٹریسٹ ، ٹیکسز،ڈپریشئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2022تا2023 میں 1.70 کروڑ روپے رہی، جو کہ 2023تا2024 میں بڑھ کر5.14 کروڑ روپے اور 2024تا2025 میں6.25 کروڑ روپے ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی، یہ پچھلے مالی سال کے پہلے دس مہینوں یعنی اپریل 2025 سے 31 جنوری 2026 تک 7.28 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی