ایران، حماس اور حزب اللہ سے لڑائی کبھی ختم نہیں ہوگی : نیتن یاہو
ایران، حماس اور حزب اللہ سے لڑائی کبھی ختم نہیں ہوگی : نیتن یاہو تل ابیب، یکم جولائی (ہ س)۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں (حماس اور حزب اللہ) کے خلاف ’’مکمل جیت‘‘ حاصل کرنے کی ان کی کوشش ’’کبھی خت
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو۔ فوٹو گریب: چینل 14


ایران، حماس اور حزب اللہ سے لڑائی کبھی ختم نہیں ہوگی : نیتن یاہو

تل ابیب، یکم جولائی (ہ س)۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے منگل کو کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں (حماس اور حزب اللہ) کے خلاف ’’مکمل جیت‘‘ حاصل کرنے کی ان کی کوشش ’’کبھی ختم نہیں ہوگی‘‘۔ انہوں نے گزشتہ 3 سال میں اسرائیل کی فوجی کامیابیوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ابھی مزید کام کرنا باقی ہے۔ دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے ’چینل 14‘ کو دیے گئے انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا۔

نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ کیا غزہ جنگ کے دوران ’’مکمل جیت‘‘ حاصل کرنے کا ان کا وعدہ اب بھی قائم ہے۔ نیتن یاہو نے کہا، ’’یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے اور اس نے اپنے دشمنوں کو کافی کمزور کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے حماس، حزب اللہ اور ایران کے زیادہ تر لیڈروں کو ہلاک کرنے اور غزہ، لبنان و شام میں بفر زون بنانے کے اپنے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتائج ان طے شدہ اہداف سے کم رہے جو انہوں نے شروع میں طے کیے تھے، یعنی ایران کے نیوکلیئر اور میزائل پروگرام کو ختم کرنا اور وہاں اقتدار کی تبدیلی میں مدد کرنا۔

نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ وہ کن ممالک کے ساتھ امن معاہدے کرنے کی امید کرتے ہیں اور کیا ان میں سعودی عرب بھی شامل ہے؟ وزیر اعظم نیتن یاہو نے ممالک کے نام بتانے سے انکار کر دیا، لیکن اس بات پر زور دیا کہ کئی ممالک اس دوڑ میں شامل ہیں اور ان میں لبنان بھی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں سب کے نام نہیں لے رہا کیونکہ میں نتائج دکھانا چاہتا ہوں۔ لبنان کے ساتھ ایسی مفاہمت بنی ہے جس کی کسی نے امید نہیں کی تھی۔ دوسرے ممالک کے ساتھ بھی رابطے ہیں۔ میں زیادہ تفصیل سے نہیں بتا سکتا۔ جب آپ مضبوط ہوتے ہیں، تو لوگ آپ کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ امن معاہدہ بھی کرتے ہیں۔‘‘

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande