آبی آلودگی حکومت کی مشترکہ ذمہ داری : تلنگانہ ہائی کورٹ
حیدرآباد، 9 جون (ہ س)۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ پینے کے پانی کی آلودگی کوروکنا تمام سرکاری محکموں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اوراسے صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ قراردیا جسے کسی ایک ایجنسی پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی
آبی آلودگی حکومت کی مشترکہ ذمہ داری : تلنگانہ ہائی کورٹ


حیدرآباد، 9 جون (ہ س)۔

تلنگانہ ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ پینے کے پانی کی آلودگی کوروکنا تمام سرکاری محکموں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اوراسے صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ قراردیا جسے کسی ایک ایجنسی پرنہیں چھوڑاجاسکتا۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین کی بنچ نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پرزوردیا کہ عوام کوفراہم کیا جانے والا پانی آلودگی سے پاک ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ آلودگی میں بیکٹیریا کی موجودگی سے زیادہ خطرناک کمیکل شامل ہیں۔عدالت نے شہرکے آبی ذخائرکی بگڑتی ہوئی حالت کے بارے میں ایک اخباری رپورٹ کے ذریعہ ایک خط کی بنیاد پراٹھائی گئی مفادعامہ کی عرضی (پی آئی ایل)کی سماعت کررہی تھی۔ عدالت نے جی ایچ ایم سی اوردیگرکوبتایا کہ تمام محکموں کوکام کرناچاہیے۔

بنچ نے مشاہدہ کیا کہ دیگرمحکمہ یہ دعوی کرتے ہوئے لاتعلق نہیں رہ سکتے کہ یہ مسئلہ صرف حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹرسپلائی اینڈ سیوریج بورڈ(ایچ ایم ڈبلیوایس اینڈ ایس بی) کے دائرہ اختیارمیں آتا ہے۔اس نے تمام متعلقہ محکموں بشمول گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کوتفصیلی جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے صورتحال کی سنگینی کودیکھتے ہوئے سینئرایڈوکیٹ کے ویویک ریڈی کوبھی اس معاملے میں معاونت کرنے کے لیے ہدایت دی۔ ریاستی وکیل نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ واٹربورڈ نے دونوں آبی ذخائر سے سپلائی کی نگرانی کی اوربنچ کوبتایا کہ آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے جوابی حلف نامہ پہلے ہی داخل کیاجاچکا ہے۔ واٹربورڈ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سیوریج جھیلوں میں نہیں ملتااورواٹرٹریٹمنٹ پلانٹس موجود ہیں۔

تاہم بنچ نے سوال کیا کہ اگرایسا ہے تو کس طرح بغیرٹریٹ کیے گئے گندے پانی کو جھیلوں میں چھوڑا جارہاہے۔

یہ کہتے ہوئے کہ کوئی بھی محکمہ پانی کی فراہمی سے غیرمتعلق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس مسئلے سے خود کو دور نہیں کرسکتا۔ عدالت نے سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande