تازہ ہوا اور صحت مند ماحول کے لیے شجرکاری ضروری
حیدرآباد ، 9 جون (ہ س)۔ گرین سیکیورفاؤنڈیشن کے زیراہتمام بی ایم برلاسائنس میوزیم کے بھاسکرآڈیٹوریم میں ماحولیاتی بحالی، جنگلات کے تحفظ اورپائیدارطرزِزندگی کے فروغ کے موضوع پرایک اہم سیمینارمنعقد کیا گیا۔ ماہرین ماحولیات،سائنس دانوں،اساتذہ، کاروباری
تازہ ہوا اور صحت مند ماحول کے لیے شجرکاری ضروری


حیدرآباد ، 9 جون (ہ س)۔ گرین سیکیورفاؤنڈیشن کے زیراہتمام بی ایم برلاسائنس میوزیم کے بھاسکرآڈیٹوریم میں ماحولیاتی بحالی، جنگلات کے تحفظ اورپائیدارطرزِزندگی کے فروغ کے موضوع پرایک اہم سیمینارمنعقد کیا گیا۔ ماہرین ماحولیات،سائنس دانوں،اساتذہ، کاروباری شخصیات اورپالیسی سازوں نے شرکت کرتے ہوئے ماحولیات کے تحفظ اورعوامی شعور بیداری کی ضرورت پرزوردیا۔ سیمینارسے خطاب کرنے والوں میں این بالا رام(آئی آرایس)،راہل جادھو(آئی ایف ایس)،اے ایل نتھن کمار،ڈاکٹرپوناسنگھل، شلپا گڈورو، پروفیسر محمد حسین،گرین سیکیورفاؤنڈیشن کے بانی وسی ای اوآدتیہ پالوی اورصدرجمہوریہ ایوارڈ یافتہ ماہرتعلیم وسماجی رہنما ڈاکٹرساجدہ خان شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ قدرتی ماحول اورجنگلات کا تحفظ ہرشہری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پرافسوس کا اظہارکیاکہ جدید طرززندگی کے باعث لوگ فطرت سے دورہوتے جارہے ہیں،جس کے نتیجے میں صحت اورماحول دونوں متاثرہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف باغات اورجنگلات کی سیر کافی نہیں بلکہ درختوں کے تحفظ اورماحول دوستی کوعملی زندگی کاحصہ بنانا ضروری ہے۔

ماہرین نے تعلیمی نصاب میں ماحولیات،شجرکاری اورفطرت سے انسان کے تعلق کوشامل کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ جنگلات تازہ ہوااورصحت مند ماحول فراہم کرتے ہیں،اس لیے ان کاتحفظ ناگزیرہے۔

سیمینارمیں پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانے کی اپیل کرتے ہوئے مقررین نے گھروں اوردفاترمیں پلاسٹک کی بوتلوں کے بجائے اسٹیل کی بوتلوں کے استعمال کامشورہ دیا۔ اسی طرح چائے اوردیگرمشروبات کے لیے کاغذی کپس کے بجائے اسٹیل کے کپ استعمال کرنے پربھی زوردیا گیا۔ تقریب کے اختتام پرتمام شرکاء نےعہد کیاکہ وہ شجرکاری، ماحولیات کے تحفظ،پانی کی بچت اور عوامی شعوربیداری کےلیےعملی کرداراداکریں گے اورماحولیاتی تحفظ سے متعلق دی گئی ہدایات پرعمل کریں گے۔

۔ ۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande