
بھوپال، 7 جون (ہ س)۔
مدھیہ پردیش سے راجیہ سبھا کی خالی ہونے والی تین سیٹوں کو پر کرنے کے لیے دو سالہ انتخاب کو لے کر سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے۔ مدھیہ پردیش اسمبلی میں ارکانِ اسمبلی کی تعداد کے حساب سے راجیہ سبھا کی دو سیٹوں پر بی جے پی اور ایک سیٹ پر کانگریس کی جیت طے ہے، لیکن وزیر اعلیٰ کے اشاروں سے لگتا ہے کہ بی جے پی کی نظر تیسری سیٹ پر بھی ہے، جبکہ بی جے پی صدر اس سے انکار کر رہے ہیں۔ اس سے سیاسی حلقوں میں ایک نیا سسپنس پیدا ہو گیا ہے۔
دراصل، مدھیہ پردیش اسمبلی میں فی الحال 228 ارکان ووٹنگ کے اہل ہیں۔ راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے کے لیے 58 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے پاس 164 ارکانِ اسمبلی ہیں، جبکہ کانگریس کے پاس 63 ارکانِ اسمبلی ہیں۔ دو سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو کامیاب کرانے کے بعد بی جے پی کے پاس تقریباً 48 ووٹ بچیں گے۔ ایسے میں تیسری سیٹ جیتنے کے لیے اسے مزید 10 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس میں کراس ووٹنگ کے خدشات اور بی جے پی کی ممکنہ حکمتِ عملی کو لے کر بحث تیز ہے۔
تاہم، بی جے پی نے ابھی صرف دو امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چگ اور ریاستی وزیر رجنیش اگروال نے ایک دن پہلے یعنی ہفتے کو ہی اپنے پرچہ نامزدگی بھی داخل کر دیے ہیں۔ دوسری طرف، کانگریس نے میناکشی نٹراجن کو امیدوار اعلان کیا ہے اور پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ پوری پارٹی ان کے ساتھ ہے۔ اسی دوران بی جے پی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پارٹی پوری طرح مضبوط پوزیشن میں ہے اور اگر تیسرا امیدوار بھی اتارا جائے تو اس کی جیت طے ہے۔
بی جے پی تنظیم کی طرف سے بھلے ہی اب تک تیسرے امیدوار کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن وزیر اعلیٰ موہن یادو کے ایک بیان سے تیسری سیٹ کو لے کر سیاسی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ دراصل، وزیر اعلیٰ ہفتے کو اندور پہنچے تھے۔ یہاں دیر شام جب صحافیوں نے راجیہ سبھا کی تیسری سیٹ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ تیسری سیٹ آئے گی نہیں تو کہاں جائے گی۔ اس کے علاوہ ہفتے کی رات وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر ہوئی بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں تمام ارکانِ اسمبلی کو 8 جون تک بھوپال نہ چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس سے بھی سیاسی قیاس آرائیوں کو ہوا ملی ہے۔
تاہم، ان قیاس آرائیوں کے درمیان بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال نے واضح کیا کہ تیسری سیٹ پر امیدوار اتارنے کی پارٹی کی کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے پاس دو سیٹوں کے لیے کافی ارکانِ اسمبلی ہیں اور کانگریس کے پاس بھی اپنے امیدوار کو جتانے کے لیے کافی تعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسری سیٹ کو لے کر نہ کوئی فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی غور کیا گیا ہے۔ پارٹی کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت بھی نہیں ملی ہے۔
راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 8 جون ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ نامزدگی کے آخری دن تک سیاسی مساوات بدل سکتی ہے۔ تیسری سیٹ کو لے کر پردے کے پیچھے سیاسی بساط پوری طرح بچھ چکی ہے۔ ایسے میں 8 جون تک تیسری راجیہ سبھا سیٹ کو لے کر سسپنس برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن